’شمالی کوریا اب امریکی تنصیبات کو نشانہ بنا سکتا ہے‘

شمالی کوریا نے گذشتہ دو ماہ کے دوران اس سے پہلے چار میزائل تجربات کیے تھے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشن

شمالی کوریا نے گذشتہ دو ماہ کے دوران اس سے پہلے چار میزائل تجربات کیے تھے

شمالی کوریا کے رہبر اعلیٰ کم یونگ ان کا کہنا ہے کہ ان کے ملک کی جانب سے کیے جانے والے نئے میزائل تجربات کے بعد ان کے پاس امریکی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی صلاحیت آ گئی ہے۔

کم یونگ ان نے یہ بات گذشتہ روز بدھ کو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کے بعد کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ’ہمارے پاس مجموعی اور عملی طور پر بحرالکاہل میں امریکی تنصیبات پر حملہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔‘

امریکہ اور جنوبی کوریا کا اس حوالے سے کہنا ہےکہ پہلا میزائل تجربہ ناکام ہوا جبکہ دوسرا میزائل چار سو کلومیٹر دور اور ایک ہزار کلو میٹر اونچا گیا۔

ان تجربات کے بعد اقوام متحدہ کی سکیورٹی کانسل نے ایک ہنگامی اجلاس طلب کر لیا۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’یہ تجربات جان بوجھ کر کیے گئے اور شمالی کوریا کی جانب سے یہ بین الاقوامی پابندیوں انتہائی خلاف ورزی ہے۔‘

خیال رہے کہ گذشتہ روز جنوبی کوریا کے مطابق شمالی کوریا نے اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خلاف ورزی کرتے ہوئے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے دو بیلسٹک میزائلوں کے تجربے کیے تھے۔

جنوبی کوریا کے فوجی حکام کا کہنا تھا کہ دونوں طاقتور موسودان میزائل تھے تاہم ان میں سے ایک کا تجربہ ناکام ہوگیا جبکہ دوسرا چار سو کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد سمندر میں گرگیا۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کی وجہ سے اقوام متحدہ نے اس پر کسی قسم کے بیلسٹک میزائل کے تجربے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

شمالی کوریا نے گذشتہ دو ماہ کے دوران اس سے پہلے چار میزائل تجربات کیے تھے اور اطلاعات کے مطابق یہ تمام ناکام رہے۔

جاپان کے وزیراعظم شنزو آبے نے کہا ہے کہ بیلسٹک میزائل تجربات کی تصدیق ہوئی ہے اور انھیں واضح طور پر برداشت نہیں کیا جائے گا۔

شمالی کوریا کے ہمسایہ ممالک نے گذشتہ دنوں ہی میزائل تجربات کی تیاریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اس کے بارے میں خبردار کیا تھا۔