یورپ میں دائیں بازو کی جماعتوں کا ریفرینڈم کروانے کا مطالبہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مس لی پین فرانس میں سنہ 2017 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اہم امیدوار ہیں۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے فیصلے کے بعد مختلف یورپی ممالک میں دائیں بازوں کی جماعتوں نے یورپی یونین میں شامل رہنے کے معاملے پر عوامی ریفرینڈم کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

فرانس دائیں بازوں کی جماعت کی سربراہ میرین لی پین نے ٹویٹ کی کہ ’آزدی کی جیت‘ اور کہا کہ فرانس کو بھی اب یہ حق ہے کہ وہ اس بارے میں فیصلہ کرے۔

تارکینِ وطن کو پناہ دینے کے مخالف ڈچ سیاست دان گریٹ ویلڈر نے کہا ہے کہ نیدر لینڈ کو بھی چاہیے کہ وہ ’نی ایگزیٹ‘ کو ووٹ دے۔

جمعرات کو برطانیہ میں ہونے والے تاریخی ریفرنڈم میں 48 فیصد افراد نے یورپی یونین میں شامل رہنے اور 52 فیصد نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کے سیاست دانوں میں ایک خوف پایا جاتا ہے جس سے تنظیم کو خطرہ لاحق ہے۔

فرانس کی لی پین نے ریفرینڈم پر ٹویٹ میں کہا کہ ’آزادی کی جیت ہوئی جیسے کہ میں کئی برسوں سے کہہ رہی ہوں کہ اب فرانس اور دوسری یورپی ممالک میں بھی ایسا ریفرینڈم ہونا چاہیے۔‘

یاد رہے کہ مس لی پین فرانس میں سنہ 2017 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں اہم امیدوار ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ REUTERS
Image caption ڈچ سیاست دان گریٹ ویلڈر نے کہا ہے کہ نیدر لینڈ کو بھی چاہیے کہ وہ ’نی ایگزیٹ‘ کو ووٹ دے

گذشتہ ہفتہ ویانا میں دائیں بازوں کی جماعتوں سے خطاب میں مس لی پین نے کہا تھا کہ ’یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے برطانیہ کے مقابلے میں فرانس کے پاس ایک ہزار سے زائد وجوہات ہیں۔‘

نیدر لینڈ کے سیاسی رہنما نے گریٹ ویلڈر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ملک کے مختار خود ہوں، ہمارے اپنے بارڈر، اپنا پیسہ اور اپنی امیگریشن پالیسی ہو۔‘

انھوں نے کہا کہ ’جس قدر جلد ممکن ہو ڈچ افراد کو یورپی یونین کی رکینت کے حوالے سے اپنی رائے دینی چاہیے۔‘

نیدر لینڈز میں عام انتخابات آئندہ سال مارچ میں ہو رہے ہیں اور بعض جائزہ رپورٹس کے مطابق ویلڈر کی جماعت کی جیت کے امکانات روشن ہیں۔

ایک حالیہ ڈچ سروے میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین کی رکنیت کے معاملے پر 54 فیصد افراد ریفرنڈم کے حق میں ہیں۔‘

آسٹریا کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے اخراج کے باوجود یورپی یونین قائم رہ سکے گا لیکن اس نتیجے کے دوسرے ممالک پر ہونے والے اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

اسی بارے میں