برطانیہ کا یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سکاٹ لینڈ میں تمام 32 لوکل کونسلز نے ای یو کا حصہ رہنے کی حمایت کی

برطانیہ میں یورپی یونین میں رہنے یا نکل جانے کے سوال پر ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدگی ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

شمال مشرقی انگلینڈ، ویلز اور مڈلینڈز میں زیادہ تر ووٹر یورپی یونین سے الگ ہونے کے حامی نظر آئے جبکہ لندن، سکاٹ لینڈ اور شمالی آئرلینڈ کے زیادہ تر ووٹروں نے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔

٭ 1985 کے بعد برطانوی پاؤنڈ کم ترین سطح پر

٭ برطانوی ریفرینڈم: گنتی جاری، ابتدائی نتائج آنا شروع ہوگئے

ریفرینڈم کے نتائج کے سٹاک مارکیٹ پر پڑنے والے اثرات کی وجہ سے سنہ 1985 کے بعد سے پہلی مرتبہ پاؤنڈ ڈالر کے مقابلے میں اپنی کم ترین سطح پر آگیا ہے۔

جمعرات کو ہونے والے ریفرینڈم میں ووٹنگ کی شرح 71.8 فیصد رہی اور تین کروڑ سے زیادہ افراد نے اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما نائیجل فراژ نے اسے برطانیہ کا کا ’یومِ آزادی‘ قرار دیا ہے

یہ برطانیہ میں 1992 کے الیکشن کے بعد ووٹنگ کی سب سے زیادہ شرح ہے۔

انگلینڈ میں لندن سے باہر جبکہ ویلز میں اکثریت نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔

برطانیہ 43 برس کے ساتھ کے بعد یورپی یونین کو الوداع کہنے والا پہلا ملک بن جائے گا تاہم علیحدگی کے حق میں ووٹ کا مطلب برطانیہ کا یورپی یونین سے فوری اخراج نہیں ہے۔ اس عمل میں کم از کم دو برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

یو کے انڈیپنڈنٹ پارٹی کے رہنما نائیجل فراژ نے اسے برطانیہ کا کا ’یومِ آزادی‘ قرار دیا ہے جبکہ یونین کا حصہ رہنے کے حامی کیمپ کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ’تباہ کن‘ ہے۔

نائجل فراژ نے جو برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے لیے گذشتہ 20 سالوں سے مہم چلا رہے تھے، وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مستعفی ہو جائیں۔ ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے کے حامی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption علیحدگی کے حق میں ووٹ کا مطلب برطانیہ کا یورپی یونین سے فوری اخراج نہیں اور اس عمل میں کم از کم دو برس کا عرصہ لگ سکتا ہے

ادھر سکاٹ لینڈ کی وزیرِ اول نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ اس ریفرینڈم سے ’یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام اپنا مستقبل یورپی یونین کے ساتھ ہی دیکھتے ہیں۔‘ سکاٹ لینڈ میں تمام 32 لوکل کونسلز نے ای یو کا حصہ رہنے کی حمایت کی ہے۔

اس ریفرینڈم کے نتائج کو 28 رکنی یورپی تنظیم کے قیام کے بعد سے اس کے لیے سخت تر دھچکا قرار دیا جا رہا ہے۔

جرمنی کے وزیرِ خارجہ فرینک والٹر سٹینمائر نے ریفرینڈم کے نتائج کو ’یورپ اور برطانیہ کے لیے ایک مایوس کن دن قرار دیا ہے۔‘

اسی بارے میں