’اب پاکستان کو ڈبل کام کرنا پڑے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption برطانیہ میں ریفرینڈم کے بعد پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھی گئی اور روپے کے مقابلے میں برطانوی پاؤنڈ کی قیمت کم ہوئی ہے

برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے اثرات پاکستانی سٹاک مارکیٹ میں بھی شدید مندی کی صورت میں فوری طور پر دکھائی دیے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس فیصلے کے پاکستان اور برطانیہ کے تجارتی روابط پر بھی اثرات مرتب ہوں گے کیونکہ پاکستان کا برطانیہ کے ساتھ دو طرفہ طور پر کوئی تجارتی معاہدہ موجود نہیں ہے۔

٭ یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹبرطانیہ کے فیصلے کا انڈیا ہر کیا اثر پڑے گا؟

کرنسی ریٹ

کرنسی ڈیلر قیصر عباس کا کہنا ہے کہ گذشتہ روز اوپن مارکیٹ میں روپے کے مقابلے میں برطانوی پاؤنڈ کی قیمت 155 روپے تھی جو اب کم ہو کر 142 روپے 50 پیسے پر آ گئی ہے۔

ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ 1.34 ڈالر سے 1.37 ڈالر میں ٹریڈ ہو رہا ہے جو سنہ 1985 کے بعد سے پاؤنڈ کی کم ترین سطح ہے۔

ریفرینڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں ایک ہزار پوائنٹس سے زائد کی کمی ہوئی لیکن پھر مارکیٹ میں تھوڑی بہتری آئی اور کے ایس ای ہنیڈرڈ انڈیکس 848 پوائنٹس کی کمی کے بعد 37389 پر بند ہوا۔

’ڈبل کام کرنا پڑے گا‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے لندن میں موجود پاکستانی ہائی کمیشن کے اکنامک اینڈ ٹریڈ ونگ میں کمرشل کاؤنسلر اجلال احمد خٹک نے کہا کہ ابھی اس بارے میں یہ حتمی رائے دینا قبل از وقت ہوگا کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ روایتی طور پر برطانیہ برسلز میں پاکستان کا بڑا حامی رہا ہے، جی ایس پی پلس سٹیٹس حاصل کرنے کے لیے بھی پاکستان کو برطانیہ کی بھرپور سپورٹ ملی تھی۔

اجلال احمد خٹک کے مطابق ’اب پاکستان کو ڈبل کام کرنا پڑے گا، برطانیہ اور یورپی یونین سے معاہدے الگ الگ ہوں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ دو سے تین سال کے دوران پاکستان اور برطانیہ کی تجارت میں 20 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ برطانیہ پاکستان کا سب سے بڑا ٹریڈنگ پاٹنر ہے، گذشتہ برس یہ درجے میں پانچویں سے تیسرے نمبر پر آیا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ afp
Image caption پاکستانی ٹیکسٹائل کی مصنوعات بھی برطانیہ کو برآمد کی جاتی ہیں

لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے صدر محمد ارشد نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ ’اس فیصلے کا پاکستان پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا اس کی وجہ یہ ہے کہ یورپی ممالک سے تجارت کے لیے جی ایس پی پلس موجود ہے اور دوسری جانب برطانیہ میں پاکستان کا امیج بھی اچھا ہے اور اس نئی صورتحال میں توقع ہے کہ پاکستانی مصنوعات کو مزید جگہ ملے گی اور اہم بات یہ بھی ہے کہ وہاں پاکستانی کمیونٹی موجود ہے۔‘

تجارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے فیصلے کے بعد پاکستان کی مصنوعات برطانیہ میں مہنگی ہو جائیں گی۔

اقتصادی ماہر سلمان شاہ بھی اس رائے سے اتفاق کرتے ہیں کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکل جانے کا پاکستان پر کوئی براہ راست اور فوری اثر نہیں پڑے گا۔

’ چونکہ پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ براہ رست تعلقات ہیں اور وہاں پاکستان کی کمیونٹی بھی ہے ان پر جو فرق پڑے گا تو اس کا اثر ہو سکتا ہے۔ دوسرے یہ کہ پاکستان کی اکانومی ڈومیسٹک ہے، اس لیے پاکستان کے دیگر ممالک کے ساتھ انفرادی سطح پر موجود تعلقات ویسے ہی رہیں گے۔‘

سلمان شاہ کہتے ہیں کچھ حد تک چیزوں کو ایڈجسٹ کرنا ہو گا مثلا پاکستان جو بانڈ مارکیٹ میں لے کر جاتا تھا پہلے تو اس کا مرکز برطانیہ تھا مگر اب ہو سکتا ہے کہ جب یورپ کو الگ کرنا پڑے گا تو اسے فرینکفرٹ یا پیرس یا کسی اور جگہ منتقل کرنا ہو گا۔

ماہرِ معاشیات خرم شہزاد کہتے ہیں کہ برطانیہ کو برآمد کی جانے والی پاکستانی مصنوعات کا تناسب سات فیصد ہے جبکہ مجموعی طور پر یورپی ممالک سے ساتھ ہم 25 فیصد اشیا برآمد کرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ جی ایس پی پلس کا سٹیٹس ملنے کے بعد پاکستان کی ماہانہ طور پر یورپی ممالک کو کی جانے والی برآمدات میں اوسطً 20 فیصد اضافہ ہوا ہے اور مجموعی اضافے میں برطانیہ کا 30 فیصد تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

خرم شہزاد کہتے ہیں کہ ’برطانیہ کے اس فیصلے سے پاکستان پر فوری طور پر اثرات مرتب نہیں ہوں گے۔ ہاں کرنسی پر اسکے فوری اثرات ہوتے ہیں جو اس وقت بھی سٹاک مارکیٹ میں نظر آرہے ہیں۔‘

ان کا خیال ہے کہ اگر تیل کی قیمت بھی گرتی ہے تو اس سے پاکستان میں شرح نمو میں بہتری، شرح سود میں کمی کے علاوہ مہنگائی کی شرح میں بھی کمی ہو سکتی ہے۔اس کے اثرات کی زد میں آٹو سیکٹر بھی آتا ہے۔

اجلال احمد خٹک کہتے ہیں کہ حالیہ عرصے میں پاکستان اور برطانیہ کے درمیان تجارت ٹیکسٹائلز سے نکل کر سروسز سیکٹر تک پہنچ چکی ہے اس کے علاوہ یو کے سے پاکستان آنے والی مصنوعات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

یورپی ممالک میں پاکستان کی ٹیکسٹائل مصنوعات کو جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد ڈیوٹیز اور ٹیکسوں کی چھوٹ ہے لیکن برطانیہ کے ساتھ تجارت کے معاملے پر برطانیہ کوئی مراعاتی معاہدہ نہیں ہے۔

خرم شہزاد سمجھتے ہیں کہ ابھی یورپی یونین سے برطانیہ کے مکمل خروج میں دو سال باقی ہیں اور اس عرصے میں پاکستان اپنی تیاری اور بہتری کے لیے مزید اقدامات کر سکتا ہے۔

اسی بارے میں