ایک اور سکاٹ لینڈ ریفرینڈم کا ’قوی امکان‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption عوامی خواہشات کی تکمیل کے لیے سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں: نکولا سٹرجن

سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ برطانیہ کے یورپ سے نکلنے کے فیصلے کے بعد سکاٹ لینڈ کے برطانیہ کا حصہ رہنے سے متعلق ایک اور ریفرینڈم کا ’قوی امکان‘ ہے۔

سکاٹش نیشنل پارٹی کی سربراہ نے برطانوی عوام کی جانب سے یورپی یونین کو چھوڑنے کے فیصلے پر اپنے رد عمل میں کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے لیے یہ جمہوری طور پر قابل قبول نہیں ہے کہ اس کی مرضی کے خلاف اسے یورپی یونین چھوڑنے پر مجبور کیا جائے۔

برطانیہ اب جانے میں دیر نہ کرے: یورپی یونینیورپی یونین سے علیحدگی، اب کیا ہو گا؟

یورپی یونین میں رہنے سے متعلق ریفرینڈم میں سکاٹ لینڈ کے 62 فیصد عوام نےیورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

نکولا سٹرجن نے کہا کہ سکاٹ لینڈ نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ یورپی یونین میں رہنا چاہتے ہیں اور ’ہم وہ سب کچھ کرنے کے لیے تیار ہیں جس سے لوگوں کی خواہشات پوری ہو سکیں۔‘

سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کی حکومت ایسی قانون سازی کی تیاری کرے گی جس سے سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے حوالے سے ایک اور ریفرینڈم کرانا ممکن ہو سکے گا۔

دو برس پہلے سکاٹ لینڈ کے عوام نے برطانیہ سے علیحدگی کے لیے ہونے والے ریفرینڈم میں برطانیہ کے ساتھ رہنے کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

نکولا سٹرجن نے کہا کہ برطانوی عوام کا فیصلہ برطانوی آئین میں اہم تبدیلوں کا موجب بنےگا۔

انھوں نے کہا کہ جن لوگوں نے 2014 میں سکاٹ لینڈ کی برطانیہ سے علیحدگی کے خلاف ووٹ دیا انھیں اپنے فیصلے کا نئے سرے سے جائزہ لینا ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ ریفرینڈم کے فیصلے سے یہ واضح ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام اور باقی برطانوی عوام کے خیالات میں واضح فرق ہے جو قابل افسوس ہے۔

’میری اولین ترجیج سکاٹ لینڈ کے عوام کو ان کے مستقبل کے بارے میں یہ یقین دلانا ہے اور وہ سکاٹ لینڈ کی یورپی یونین میں پوزیشن کو محفوظ بنانے کے لیے تمام امکانات پر غور کریں گی۔‘

یورپی یونین کو چھوڑنے سے متعلق برطانوی عوام کے فیصلے کے بعد سنیچر کو سکاٹ لینڈ کی کابینہ کا اجلاس ہو گا۔

سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نے کہا کہ وہ یہ واضح کرنا چاہتی ہیں کہ ریفرینڈم کے نتائج کچھ بھی ہوں انگلینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ ہمیشہ سکاٹ لینڈ کے قریبی ہمسائے اور بہترین دوست ہوں گے ۔

انھوں نے کہا: ’یہ بھی واضح رہے کہ مجھے سکاٹ لینڈ اور پھر اس عوام نے جس انداز میں رائے دی ہے اس پر فخر ہے۔‘

اسی بارے میں