ریفرینڈم کے بعد برطانیہ کی کریڈٹ ریٹنگ ’منفی‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption جمعرات کو براطانیہ کے شہریوں نے یورپی یونین سے علیحدگی کے حق میں ووٹ دیا

برطانوی عوام کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے حق میں ووٹ ڈالنے کے بعد بین الاقوامی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی ’موڈیز‘ نے برطانیہ کی کریڈٹ ریٹنگ کو کم کرتے ہوئے ’منفی‘ کر دیا ہے۔

موڈیز کا کہنا ہے کہ ووٹ کا نتیجہ ’غیر یقینی صورت حال کے ایک طویل دور‘ ہے۔

٭ یورپی رہنما برطانوی ’علیحدگی‘ پر بحث کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں

٭ برطانیہ اب جانے میں دیر نہ کرے: یورپی یونین

دوسری جانب برسلز کے جلد بات چیت شروع کرنے کے بیان کے بعد وزیراعظم دیوڈ کیمرون پر یوپی یونین سے ’طلاق‘ کے عمل کو تیز کرنے کا دباؤ ہے۔

یورپین کمیشن کے سربراہ ژاں کلود ہنکر نے کہا ’یہ باہمی رضامندی سے ہونے والی طلاق نہیں‘ لیکن یہ ’ بہت مضبوط پیار محبت بھی نہیں۔‘

موڈیز نے کہا ہے کہ ریفرینڈم کے نتیجے میں ’ملک کے درمیانی مدت کے ترقی کے امکانات پر منفی اثرات مرتب ہوں گے‘ اور اس نے برطانیہ کے طویل مدتی فراہم کنندہ اور قرض کی ریٹنگ کو ’مستحکم‘ سے ’منفی‘ کر دیا ہے۔

اس نے کہا: ’موڈیز کی نظر میں معاشی ترقی میں کمی کے اثرات برطانیہ کی مالی بچت پر بھاری پڑیں گے جسے اب یورپی یونین کے بجٹ میں تعاون نہیں کرنا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption جمعہ کو لندن میں 10 ڈاؤئنگ سٹریٹ پر ایک پریس کانفرنس میں ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ اکتوبر میں اپنے عہدے سے الگ ہو جائیں گے

اس نے یہ بھی کہا کہ ترقی یافتہ معیشت میں برطانیہ سب سے زیادہ بجٹ کے خسارے والا ملک ہے۔

یہ مالی جائزہ برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد آیا ہے اور شکست خوردہ ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ خزاں میں اپنا عہدہ چھوڑ دیں گے۔

علیحدگی کے حامی ایم پی بورس جانسن کو ان کا متبادل قرار دیا جا رہا ہے۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کی خبروں کے بعد دنیا بھر میں بازارِ حصص میں مندی دیکھنے میں آئی اور برطانوی پاؤنڈ عشروں کی ریکارڈ سطح تک گر گیا۔

جمعے ہی کو یورپی پارلیمان کے صدر مارٹن شلز نے کہا کہ ڈیوڈ کیمرون کی کنزرویٹو پارٹی کی اندرونی جھڑپوں نے ای یو کو ’مجموعی طور پر یرغمال بنا رکھا تھا۔‘

لندن سکاٹ لینڈ اور شمالی آئر لینڈ کی کیمرون کی حمایت کے باوجود جمعرات کو ہونے والے تاریخی ریفرنڈم کے نتائج کے مطابق 52 فیصد عوام نے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے حق میں جبکہ 48 فیصد نے یونین کا حصہ رہنے کے حق میں ووٹ دیا۔

وزیرِ اعظم کیمرون نے کہا کہ وہ آنے والے ہفتوں میں ملک کو سنبھالنے کے لیے کام کریں گے لیکن ان کے خیال میں یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات کا عمل ایک نئے کپتان کی سربراہی میں شروع ہونا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یورپی یونین کے صدر نے کہا ہے کہ تاخیر کا کوئی مطلب نہیں بات چیت شروع ہو جانی چاہیے

اُن کا کہنا تھا کہ ملک کو اب ایک نئے وزیراعظم کی ضرورت ہے جو یورپی یونین سے اخراج کے عمل کا آغاز کرے اور اسے پایہ تکمیل تک پہنچائے۔

لیکن جرمن ٹی وی کے ساتھ ایک انٹرویو میں یورپی یونین کے صدر نے جنکر نے کہا: ’برطانیہ کے لوگوں نے کل یورپی یونین سے علیحدگی کا فیصلہ کیا ہے اس لیے ان کی علیحدگی پر بات چیت کے لیے اکتوبر تک انتظار کرنے کا کوئی مطلب نہیں۔ میں فورا ہی اسے شروع کرنا چاہوں گا۔‘

اس سے قبل امریکہ صدر براک اوباما نے مسٹر کیمرون کی یقین دہانی کرائی تھی کہ برطانیہ امریکہ کا ’ناگزیر شراکت دار رہے گا۔‘

اسی بارے میں