برطانیہ کا اخراج، یورپی یونین نے طریقہ کار واضح کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یورپی یونین نے برطانیہ کے اخراج کے لیے باقاعدہ خطوط واضح کیے ہیں

برطانیہ کے ریفرینڈم کے نتائج کے بعد یورپی یونین نے علیحدگی کے لیے خطوط واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ برطانیہ کو یورپی یونین سے اخراج کے لیے باقاعدہ خط لکھنا ہو گا اور اعلان کرنا ہو گا۔

یورپی یونین کا کہنا ہے کہ برطانیہ آرٹیکل 50 کے استعمال کرتے ہوئے باضابطہ اعلان، خط یا پھر بیان کے ذریعے یونین سے علیحدگی اختیار کر سکتا ہے اور معاہدے کے تحت علیحدگی کے اعلان کے بعد دو سال کے اندر اندر علیحدگی کا عمل مکمل ہو گا۔

٭ریفرینڈم کے بعد برطانیہ کی کریڈٹ ریٹنگ ’منفی‘

٭ برطانیہ: لاکھوں افراد کا دوبارہ ریفرنڈم کروانے کا مطالبہ

یورپی یونین نے برطانیہ کے اخراج کے لیے باقاعدہ خطوط واضح کیے ہیں جس کے تحت برطانیہ یونین سے علیحدگی کے لیے باضابطہ بات چیت شروع کر سکتا ہے۔

ریفرینڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے بھی اکتوبر میں اپنے عہدے سے الگ ہونے کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے لیے مذاکرات آنے والے وزیراعظم کریں گے۔

جمعرات کی ووٹنگ کے بعد سے اس بارے میں بہت زیادہ قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں کہ برطانیہ کب اور کیسے باضابطہ بات چیت کی ابتدا کر سکتا ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین کے وزیر خارجہ نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ جتنا جلدی ہو سکے الگ ہو جائے۔

یورپین کونسل کے ترجمان جو یورپی یونین کی سیاسی سمت و رفتار اور ترجیحات کی وضاحت کرتے ہیں، انھوں نے سنیچر کو اس بات کا اعادہ کیا ہے کہ’ آرٹیکل 50 کے استعمال کی بات برطانیہ کی حکومت کی جانب سے یورپی کونسل کے لیے باضابطہ قدم ہوگا۔‘

ترجمان نے کہا: ’آرٹیکل 50 کے استعمال کے لیے بالکل واضح انداز میں کہنا ہوگا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس معاملے میں اپنی مرضی چلانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا: ژاں کلود ہنکر

انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس کے لیے یورپی کونسل کے صدر کے نام کوئی خط ہو یا یورپی کونسل کی اجلاس میں کوئی سرکاری بیان جمع کروانا ہو گا جیسے اجلاس کی ایجنڈے اور ریکارڈ میں باضابطہ طور پر شامل کیا جائے۔‘

جرمن چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپی یونین کو اپنے بلاک میں سے برطانیہ کے خروج کے بعد اس کے ساتھ مذاکرات میں کسی بھی طور پر نامناسب رویہ اپنانے کی ضرورت نہیں ہے۔

انھوں نے اس بات پر ضرور دیا کہ دیگر ممالک کو یورپی یونین چھوڑنے سے باز رکھنا بات چیت میں ترجیح نہیں ہونی چاہیے۔

جرمن چانسلر کا مزید کہنا تھا کہ وہ برطانیہ کے یورپی یونین سے نکلنے کے اعلان کے بعد اس بات کے حق میں نہیں کہ اس پر جلد خروج کے لیے دباو ڈالا جائے۔

مسز میرکل نے یہ بیان جرمنی سمیت یورپی یونین کے رکن ممالک میں سے بیشتر کے وزرائے خارجہ کے ان بیانات کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ اس گروپ سے نکلنے کے لیے عملی اقدامات کو تیز کریں

خیال رہے کہ اس سے قبل جرمنی کے وزیر خارجہ فرینک والٹر سٹینمر نے برطانیہ پر زور دیا ہے کہ وہ جتنا جلدی ممکن ہو یورپی یونین سے نکل جانے کے عمل کا باقاعدہ آغاز کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ان خیالات کا اظہار انھوں نے سنیچر کی صبح جرمنی کے دارالحکومت برلن میں یورپی یونین کے بانی رکن ممالک (جرمنی، فرانس، اٹلی، ہالینڈ، بلجیم اور لکسمبرگ) کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد کیا تھا۔

فرینک والٹر سٹینمر کا کہنا تھا کہ (اگرچہ) برطانوی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے سوچیں، اسی طرح یورپی یونین کے رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس اتحاد کے مستقبل کے بارے میں سوچیں۔*

ادھر یورپی کمیشن کے صدر ژاں کلود ہنکر نے کہا ہے کہ اب برطانیہ کے لیے یہ فیصلہ کرنا ضروری ہوگیا کہ وہ یورپی یونین کے ساتھ کس قسم کے تعلقات رکھنا چاہتا ہے کیونکہ برطانیہ یہ نہیں کر سکتا ہے کہ اپنی مرضی کی چیزوں میں تو شامل ہو اور باقی کو چھوڑ دے۔

بانی رکن ممالک کے اجلاس سے پہلے فرانس کے وزیر خارجہ نے بھی یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کے عمل کو جلد مکمل کرنے پر زور دیا۔

اگلے ہفتے یورپی یونین میں شامل ممالک کے سربراہی اجلاس میں تاریخی ریفرینڈم کے بعد ’علیحدگی‘ کے مضمرات پر بحث کی جائے گی۔ منگل اور بدھ کو ہونے والے اس اجلاس میں برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرن شرکت کریں گے ۔

اسی بارے میں