’باضابطہ درخواست سے پہلے نکلنے کی بات نہیں کریں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چانسلر میرکل صدر اولاند، اطالوی وزیر اعظم میٹیو رینزی اور یورپین کونسل کے صدر ڈونالڈ ٹسک کی سوموار کو میزبانی کر رہی ہیں

جرمنی نے کہا ہے کہ برطانیہ کی طرف سے یورپی یونین سے نکلنے کے بارے میں باضاطہ درخواست دئے جانے سے پہلے اس بارے میں کوئی بات چیت نہیں ہو گی۔

جرمن حکومت کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ برطانیہ کو مناسب وقت دیا جائے گا لیکن اس ضمن میں کوئی رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔

جرمنی، فرانس اور اٹلی کے رہنما پیر کو برلن میں ملاقات کرنے والے ہیں جس میں یورپی یونین کی برطانیہ سے نکلنے کا معاملہ بھی ایجنڈے پر ہوگا۔

قبل ازیں جرمن چانسلر انگیلا میرکل اور فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے کہا تھا کہ یورپی یونین چھوڑنے کے برطانوی فیصلے کے بعد کی صورت حال سے نمٹنے پر ان میں ’مکمل مفاہمت‘ ہے۔

اولاند نے متنبہ کیا کہ علیحدگی کے بعد ’ہمیں تقسیم، نااتفاقی اور جھگڑے کا خطرہ ہے۔‘

٭ برطانیہ کا اخراج، یورپی یونین نے طریقہ کار واضح کر دیا

٭ یورپی رہنما برطانوی ’علیحدگی‘ پر بحث کے لیے اکٹھے ہو رہے ہیں

دریں اثنا ایشیائی بازاروں میں ابتدائي کاروبار کے دوران برطانوی پاؤنڈ کی قدر و قیمت میں مزید کمی آئی ہے۔

دوسری جانب برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون سوموار کو کابینہ کے اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برطانیہ میں بازار کھلنے سے قبل برطانوی چانسلر جارج اوسبورن ایک بیان جاری کریں گے

برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی کی مہم کی سربراہی اور ڈیوڈ کیمرون کی جگہ لینے کی خواہش رکھنے والے لندن کے سابق میئر بورس جانسن نے کہا تھا کہ برطانیہ یورپی یونین کے ساتھ تعاون میں ’اضافے‘ کی کوشش جاری رکھے گا۔

اتوار کو مسٹر اولاند نے کہا کہ برطانیہ کے فیصلے کو اب واپس نہیں لیا جائے گا۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ ’جو کبھی ناقابل تصور تھا اب وہ ناقابل تنسیخ ہے۔‘

چانسلر میرکل صدر اولاند، اطالوی وزیر اعظم میٹیو رینزی اور یورپین کونسل کے صدر ڈونلڈ ٹسک کی سوموار کو میزبانی کر رہی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری لندن اور برسلز میں بات چیت کے لیے یورپ آنے والے ہیں۔

اتوار کو روم میں انھوں نے برطانیہ کے فیصلے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ یورپی یونین کے ساتھ قریبی تعلقات کو برقرار رکھے گا۔

اس سے قبل امریکی صدر براک اوباما نے کہا تھا کہ برطانیہ کے فیصلے کے باوجود امریکہ اور برطانیہ کے خصوصی تعلقات قائم رہیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بہت سے برطانوی شہریوں نے دوبارہ ووٹنگ کی بات کہی ہے

اس سے قبل یورپی کونسل کے صدر ژان کلاڈ جنکر نے کہا تھا کہ یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی کا عمل جلدی شروع ہو جانا چاہیے۔

یورپی یونین کے کئی وزرائے خارجہ نے برطانیہ سے یورپی یونین کو چھوڑنے کا عمل شروع کرنے کے لیے کہا ہے جبکہ برطانوی وزیر خارجہ فلپ ہیمنڈ نے کہا ’فی الحال کچھ نہیں ہو سکتا ہے۔‘

جرمن چانسلر کے چیف آف سٹاف نے ان کے اس موقف کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ برطانوی سیاست داں اپنا وقت لیں اور یورپی یونین سے علیحدگی کے نتائج کا جائزہ لیں۔

اس سے قبل ڈیوڈ کیمرون نے کہا تھا کہ وہ اکتوبر میں عہدے سے دست بردار ہو جائیں گے تاکہ ان کے جانشین علیحدگی کی بات جاری رکھ سکیں جس میں لزبن معاہدے کے آرٹیکل 50 کے استعمال کا اعلان شامل ہے جس کے نتیجے میں برطانیہ کو دو سال کی مہلت مل جائے گی۔

اسی بارے میں