کیا سکاٹ لینڈ برطانیہ کو روک سکتا ہے؟

سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹروجن تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹروجن نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ سکاٹ لینڈ کے عوام کی خواہش کا احترام کریں گی

اب تک کچھ اس طرح ہوا ہے۔ وزیرِ اعظم نے استعفیٰ دے دیا، قائد حزبِ اختلاف پر سینیئر ساتھیوں کی طرف سے دباؤ ہے کہ وہ بھی استعفیٰ دیں۔ اور یہاں بھی یاد دلانا ضروری ہے کہ یورپی یونین میں 43 سال ممبر شپ کے بعد برطانیہ میں ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے یونین سے علیحدگی کے لیے ووٹ دیا۔

دوسری طرف سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹروجن نے کہا ہے کہ سکاٹ لینڈ کے عوام نے واضح طور پر یورپی یونین میں اس کے شمولیت کے حق اور ذمہ داریوں کے ساتھ رہنے کے لیے ووٹ دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ یہ ان کا فرض ہے کہ وہ عوامی رائے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اس پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کریں۔

پہلے اسے ہی دیکھیں۔ کیا ایسا کوئی مینڈیٹ ہے؟ مس سٹروجن کہتی ہیں ہاں۔ وہ کہتی ہیں کہ سکاٹ لینڈ ایک ملک ہے، اگرچہ اس وقت تک وہ ایک ریاست نہیں ہے۔ اس ملک کی ایک منتخب رہنما، اور ووٹرز کی خواہش کے مطابق فیصلے کرنا ان کی ذمہ داری ہے۔

بطور ایک قوم پرست رہنما آپ ان سے اور کیا توقع کر سکتے ہیں۔

ان کی جدو جہد کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ سکاٹ لینڈ منفرد ہے اور بانٹی ہوئی خود مختاری اور تعاون کی حدود میں رہتے ہوئے منفرد سلوک ہی چاہتا ہے جو ماڈرن ایس این پی کی خصوصیت ہے۔

دوسرے متحدہ برطانیہ کے حامی کہتے ہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ مثال کے طور پر سکاٹش سیکریٹری ڈیوڈ منڈل کہتے ہیں کہ سکاٹ لینڈ ستمبر 14 کے ریفرنڈم کے بعد برطانیہ کا حصہ رہا تھا اور وہ برطانیہ کے اجتماعی اصولوں سے جڑا ہوا ہے جیسا کہ جمعرات کا ووٹ۔

یو کپ کے نائجل فراج اور ڈیوڈ کوبرن اپنے مخصوص انداز میں دو ٹوک الفاظ میں نکولا سٹروجن کی بات کی نفی کرتے ہیں۔

Image caption سکاٹ لینڈ میں عوام کی اکثریت نے یورپی یونین میں رہنے کے حق میں ووٹ دیا

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سکاٹش حکومت اور وہ انتظامی ڈھانچے جنھیں یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے وہ یورپی یونین کے ساتھ مذاکرات میں حصہ لیں۔

’لیو‘ کیمپ کے سرکردہ رہنما بورس جانسن کہتے ہیں کہ ایسی کوئی وجہ نہیں نظر آتی کہ بریگزٹ کی وجہ سے ملک میں مقامی اتحادی کے لیے کوئی مسئلہ کھڑا ہو جائے۔

بس یہ کہنے ہی میں فرق ہے۔ اگرچہ ان چیزوں کا فرق پڑتا ہے لیکن کوئی بھی یونینسٹ اسے آسانی سے قبول کر سکتا کہ سکاٹ لینڈ برطانیہ کی مرضی کے علاوہ کچھ اور کرے، جیسا کہ جمعرات کا ووٹ۔ اس وقت تک جب تک سکاٹ لینڈ آزاد ریاست نہیں بن جاتا۔

نکولا سٹروجن کیا کر سکتی ہیں؟

انھوں نے کہا ہے کہ وہ یورپی اداروں کے ساتھ سبھی آپشنز کا جائزہ لیں گی تاکہ یورپی یونین اور سکاٹ لینڈ کے درمیان محفوظ رابطے جاری رکھے جا سکیں۔

ان میں سے ایک آپشن آزادی کا دوسرا ریفرنڈم ہے تاکہ سکاٹ لینڈ ایک آزاد ملک کی حیثیت سے یورپی یونین میں رہے یا اس میں دوبارہ شمولیت اختیار کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ریفرنڈم کا نتیجہ سامنے آنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے اپنے استعفیٰ کے اعلان کیا

تو کیا اس کا مطلب ہے کہ ہولی رووڈ بریگزٹ کو ویٹو کر سکتا ہے؟

سکاٹ لینڈ کے قانون کی شق 29 کے مطابق سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کو اختیار ہے کہ جو شعبے اس کے دائرۂ اختیار میں اس کے مطابق قانون سازی کرے، اور اس کا خیال کرے کہ وہ اس میں ایسا کچھ نہ ہو جو یورپی یونین کے قانون سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔

مختصر یہ کہ یورپی یونین کا قانون سکاٹ لینڈ میں طاقت رکھتا ہے اور دوسرے خود مختار علاقے سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کے تحت ہیں نہ کہ ویسٹ منسٹر کے تحت۔

اس لیے اگر برطانیہ کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات میں کسی قسم کی بھی تبدیلی لانا ہے تو اس کے لیے سکاٹ لینڈ کی پارلیمان کی رضامندی ضروری ہے۔

یہ بات بھی واضح ہے کہ نکولا سٹوجن پرسکون ہیں۔ ان پر بریگزٹ کے بعد دوسرے رہنماوں پر پڑنے والا دباؤ بھی نہیں ہے اور نہ ہی انھیں استعفیٰ دینے کے لیے کہا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں