ریو اولمپکس، سیاست اور صحت کے مسائل

میگا موہن کا بلاگ

برازیل کے شہر ریو ڈی جنرو کے گلیلیو ایئرپورٹ کے ’آرائیول لاؤنج‘ میں مسافروں کے لیے ایک حیران ناخوشگوار حیرت ان کی منتظر تھی۔

پھولوں کے گلدستے اٹھائے دوست رشتہ دار اور بورڈ اٹھائے ٹیکسی ڈرائیور جہاں اپنے مہمانوں اور سیاحوں کے منتظر تھے وہیں ایک قطار ڈیوٹی سے فارغ ہو کر آنے والے پولیس افسران کی تھی جو ہاتھ میں ایک بینر اٹھائے کھڑے تھے جس پر لکھا تھا ’جہنم میں خوش آمدید۔‘

٭ کیا اولمپکس کھیلوں کو مچھر کاٹ رہا ہے

اس بینر پر مزید لکھا تھا کہ آگ بجھانے والے عملے او پولیس کو تنخواہ نہیں ملتی۔ یہ تحریر انگریزی اور پرتگالی زبانوں میں تھی۔ اس تحریر میں یہ پیغام بھی شامل تھا کہ آپ ریو ڈی جینرو میں محفوظ نہیں ہیں۔

مظاہروں کی تصاویر کی سوشل میڈیا اور برازیل کے ذرائع ابلاغ میں وسیع پیمانے پر تشہیر کی گئی ہے۔ اوپر والی تصویر سوشل میڈیا کی ایک ویب سائٹ ’امگر‘ پر لگائی گئی تھی اور اسے صرف ایک دن میں تیس لاکھ لوگوں نے دیکھا۔

شہر میں کئی دیگر مقامات پر پولیس والی تنخواہوں کی ادائیگیوں میں تاخیر اور پولیس والوں کو گشت کرنے کے لیے ایندھن اور بیت الخلاء میں ’ٹوئلٹ پییر‘ جیسی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی کے خلاف مظاہرے کر رہے ہیں۔

تین سو کے قریب سیاہ وردیوں میں ملبوس اہلکار ریو ڈی جنیرو کی ریاستی اسمبلی کی سیڑھیوں پر کھڑے ہیں۔ ایک بینر پر تحریر تھا کہ ’پولیس کی ترجیح عوام ہیں اور حکومت کی ترجیح اولمپکس ہیں۔‘

ریو کی پولیس کے ترجمان نے کہا کہ صورت حال اتنی گمبھیر ہے ان کے علم میں نہیں تھا۔ انھوں نے کہا کہ پولیس کا محکمۂ بکھر رہا ہے۔ فرانسوا دورنالیس جو ریو ڈی جنرو کے قائمقام گورنر ہیں انھوں نے برازیل کے ایک اخبار کو بتایا کہ ریاست کو چھیاسی کروڑ ڈالر کا انتظار ہے جو وفاقی حکومت نے اولمپکس کھیلوں کے آغاز سے قبل دینے کا وعدہ کیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ فنڈز کی عدم دستیابی کے باعث ہو سکتا ہے کہ پولیس کو اپنی گشت روکنا پڑیں کیوں کہ ایندھن خریدنے کے لیے پیسہ نہیں ہے۔ ریو میں اس سال اگست میں منعقد ہونے والے اولمپکس گیم پر برازیل کو درپیش معاشی اور سیاسی مسائل کے سائے پڑنے کا اندیشہ ہے جن کی ایک علامت پولیس اہلکاروں کا یہ احتجاج بھی ہے۔

برازیل کے ایوان بالا یا سینیٹ نے ملک کی صدر دیلما روسیف کے خلاًف سنہ دو ہزار چودہ میں انتخابی مہم سے پہلے قومی بجٹ میں ردو بدل کے الزامات کی بنیاد پر انھیں معطل کر کے ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع کر رکھی ہے۔

معاشی شعبے میں مجموعی صورت حال بہت خوش کن نہیں ہے۔ سنہ دو ہزار سولہ کی پہلی سہ ماہی کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ ملک کو گذشتہ پچیس برس میں بدترین کساد بازاری کا سامنا ہے۔

ملک کی مجموعی پیداوار میں گذشتہ سال کے مقابلے میں پانچ اعشاریہ چار فیصد کی کمی ہوئی ہے۔ دریں اثنا اس سال فروری سے اپریل کے دوران بیروزگاری نو اعشاریہ پانچ فیصد سے بڑھ کرگیارہ اعشاریہ دو فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ اوسط آمدن میں بھی کمی واقع ہوئی ہے۔

مزید براں اولمپکس کی انتظامی کمیٹی نے اعلان کیا ہے دو اور مشہور کھلاڑیوں جن میں گولف کے عالمی نمبر ون جیسن ڈے بھی شامل ہیں انھوں نے زیکا وائرس کی وجہ سے اولمپکس میں شرکت کرنے سے معذرت کر لی ہے۔ اولمپکس کی انتظامی کمیٹی کے سربراہ نے کہا ہے کہ زیکا وائرس کے خوف اور خطرے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جا رہا ہے۔

اسی بارے میں