نیا برطانوی وزیراعظم کون ہوگا؟

Image caption ملک کے وزیراعظم کے عہدے کی دوڑ میں شامل رہنما

یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے برطانوی عوام کے فیصلے کے بعد وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے وزارت عظمیٰ سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہ اکتوبر میں ہونے والی پارٹی کی کانفرنس میں نئے رہنما کا انتخاب کیا جائے۔ نئے رہنما کو منتخب کرنے کا کیا طریقہ ہے اور اس دوڑ میں کون کون سے رہنما شامل ہیں۔

پارٹی کی 1922 کمیٹی اس الیکشن کی نگرانی کرے گی۔ پارٹی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ نئے پارٹی سربراہ کا انتخاب اسی نظام کے تحت ہوگا جس کے تحت 2005 میں ڈیوڈ کیمرون کو منتخب کیا گیا تھا جس کے تحت ممبرانِ پارلیمنٹ دو امیدواروں کا انتخاب کریں گے، جو پارلیمانی لیڈر بننا چاہتے ہیں۔ انھیں بیلٹ پیپر پر آنے کےلیے دو رکن پارلیمان کی جانب سے نامزد کیا جانا ضروری ہوگا۔

اگر تین یا اس سے زیادہ امیدوار ہونگے توپارلیمانی پارٹی میں ان کے لیے ووٹنگ ہوگی تاکہ دو لوگوں کا انتخاب کیا جا سکے۔

اس کے بعد پوری کنزریٹو پارٹی مل کر ان میں سے ایک کا انتخاب کرے گی۔

بورس جانسن

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بورس جانسن دو مرتبہ لندن کے میئر رہ چکے ہیں

اہم امیدواروں میں کئی نام ہیں اور لندن کے سابق میئر بورس جانسن ان میں سی ایک ہیں۔

صحافت سے سیاست میں آنے والے 52 سالہ بورس جانسن برطانوی سیاست میں ایک جانا پہچانا چہرہ ہیں۔ ان کے غیر روایتی سیاسی انداز اور طلسماتی شخصیت نے انھیں کافی مقبول بنا دیا ہے۔

کئی سال سے اس طرح کی چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ بورس جانسن برطانوی وزیر اعظم بننے کی خواہش دل میں دبائے ہوئے ہیں۔ بطور لندن میئر آٹھ سال سٹی ہال میں گزارنے کے بعد انھوں نے واپس پارلیمان کا رخ کیا ہے اور یورپی یونین سے متعلق ریفرنڈم کے گھوڑے پر سوار ہو کر ملک کے وزیراعظم کے عہدے تک پہنچنے کی ان کی کوشش پر ان کے کئی حریفوں نے سوالیہ نشان لگایا ہے۔

ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا کنزرویٹو ممبرانِ پارلیمان یہ سمجھتے ہیں کہ بورس جانسن میں اتنی سیاسی بصیرت اور مزاج ہے کہ وہ اس اعلیٰ عہدے کو سنبھال سکیں۔

ٹریسا مے

Image caption ٹریسا مے کو بھی ایک اہم امیدوار تصور کیا جاتا ہے

برطانوی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیر داخلہ کے عہدے پر رہنے والی ٹریسا مے جو رواں سال 60 برس کی ہونے والی ہیں۔ انھیں مستقبل میں پارٹی کی قیادت کے طور پر اہم سمجھا جاتا ہے۔

ٹریسا مے کو ایک مضبوط، منجھی ہوئی اور سمجھدار سیاست دان کہا جاتا ہے۔

ٹریسا جس طرح وزارتِ داخلہ کے مشکل سے مشکل بریف کو پُرسکون انداز میں نمٹاتی ہیں اسے قابلِ ستائش سمجھا جاتا ہیں۔اب پارٹی میں انھیں کس حد تک پسند کیا جاتا ہے یہ ابھی طے ہونا باقی ہے۔

ٹریسا مے یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں تھیں لیکن انھوں نے ریفرنڈم کی مہم میں نسبتاً کم گرم جوشی کا مظاہرہ کیا۔ 2013 میں انھوں نے انکشاف کیا تھا کہ انھیں ذیابیطس ہے تو ہو سکتا ہے کہ وہ ممبران پارلیمنٹ سے اپیل کریں کہ وہ بورس جانسن کے علاوہ کسی اور کو نامزد کر لیں۔

سٹیفن کریب

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سٹیفن کریب سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے تھے

سٹیفن کریب کنزرویٹو پارٹی کے ابھرتے ہوئے ستارے ہیں۔انھوں نے بھی قیادت کے لیے اپنا دعویٰ پیش کیا ہے اور وزیر تجارت ساجد جاوید ان کی حمایت کر رہے ہیں۔

اپنی مہم کا آغاز کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ پارٹی کے اندر ریفرنڈم سے پیدا ہونے والے تلخیوں کو ختم کریں گے۔ویلز کے سابق وزیر سٹیفن کریب سکاٹ لینڈ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس نتیجے کے بعد ہمیں برطانیہ کو متحد رکھنا ہے۔

سٹیفن کریب کی کہانی ٹوری ممبرانِ پالیمان کے لیے خاصی دلچسپ ہے۔ ان کی ماں نے تنہا ہی ان کی پرورش کی، وہ کونسل سٹیٹ میں رہے اور انھوں نے ہمیشہ ہی اپنی نجی زندگی کو کھلی کتاب بنا کر رکھا۔

2005 میں رکن پارلیمان بننے کے بعد 2014 میں انھیں ویلز کے وزیر کے طور پر کابینہ میں شامل کیا گیا۔اب دیکھنا ہے کہ یورپی یونین کے ساتھ رہنے پر ان کی حمایت کہیں ان کے راستے کی رکاوٹ تو نہیں بن جائے گی۔

جان بیرن

Image caption جان نے عراق جنگ کے خلاف ووڈ دیا تھا

ٹوری قیادت کو ریفرنڈم کے لیے تیار کرنے میں 57 سالہ جان بیرن کا اہم رول تھا۔ کیمرِج یونیورسٹی سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد جان فوج میں شامل ہوئے اور پھر سیاست میں آئے۔

وہ سابق شیڈو وزیر صحت تھے لیکن 2003 میں عراق جنگ کے خلاف ووٹ دینے کے لیے مستعفیٰ ہو گئے تھے۔گزشتہ سال انھوں نے شام میں فوجی مداخلت کے خلاف بھی ووٹ دیا تھا۔

لیام فوکس

Image caption لیام پہلے بھی پارٹی قیادت کے لیے الیکشن لڑ چکے ہیں

54 سالہ سابق وزیر دفاع غالباً دوسری مرتبہ پارٹی قیادت کے لیے کوشش کریں گے۔2005 میں پارٹی قیادت کے الیکشن میں مسٹر فوکس تیسرے نمبر پر آئے تھے جس میں ڈیوڈ کیمرون کامیاب ہوئے تھے۔یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کی مہم میں وہ پیش پیش تھے۔

جیریمی ہنٹ

Image caption جرمی ہنٹ بھی پارٹی قیادت کے الیکشن میں حصہ لینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں

وزیر صحت جیریمی ہنٹ 2005 میں پارلیمان میں پہنچے اور سیاسی طور پر وزیراعظم کے قریبی لوگوں میں سمجھے جاتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ پارٹی قیادت کے الیکشن میں حصہ لینے پر سنجیدگی سے غور کر رہے ہیں۔

وزیر صحت نے ملک نیشنل ہیلتھ سسٹم میں کئی تبدیلیاں دیکھی ہیں لیکن حال ہی میں انگلینڈ میں جونیئر ڈاکٹروں کے کنٹریکٹس پر برٹش میڈیکل ایسوسی ایشن کے ساتھ تنازعہ میں پھنس گئے۔ای یو ریفرنڈم کے دوران وہ یورپی یونین کے ساتھ رہنے کی مہم میں شامل تھے۔

نکیِ مورگن

Image caption نکی مورگن یورپی یونین کے ساتھ تہنے کے حق میں تھیں

وزیر تعلیم نکِی مورگن بھی اس دوڑ میں شریک ہونے کا منصوبہ بنا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ آخری دو امیدواروں میں سے ایک خاتون ہوگی تو اچھا رہے گا۔

وہ یورپی یونین کے ساتھ رہنے کے حق میں تھیں۔مورگن کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم کے بعد ملک تقسیم ہوگیا ہے اور کنزرویٹو پارٹی کو اس ملک کو واپس متحد کرنا ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کے اس ملک میں آنے کے لیے ایک مثبت پالیسی بنائی جانی چاہیے۔ان کا کہنا ہے کہ پارٹی کو نوجوان نسل کے لیے جراتمند اقدامات کرنے ہوں گے جو برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدہ ہونے کے فیصلے سے پریشان ہیں۔

مائیکل گو

Image caption مائکل کو پارٹی میں ایک دانشور کے طور پر دیکھا جاتا ہے

سابق صحافی مائیکل گو 2005 میں ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے اور ڈیوڈ کیمرون کے اچھے دوست تھے۔ انھیں پارٹی میں ایک دانشور اور اصلاح کار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ انھوں نے یورپی یونین سے الگ ہونے کی حمایت کی ہے جس کے سبب ڈیوڈ کیمرون کے ساتھ ان کے تعلقات متاثر ہوئے لیکن اس کے باوجود بھی پارٹی کے دونوں گروپ ان کی عزت کرتے ہیں اور توقع کی جا رہی ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ ایک اہم شخصیت ہونگے۔