برطانیہ کو یورپی یونین سے منہ نہیں موڑنا چاہیے: کیمرون

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

برطانیہ کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے علیحدگی کے بعد بھی برطانیہ کو ’یورپی یونین سے منہ نہیں موڑنا چاہیے‘۔

برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہو جانے کے فیصلے کے بعد یورپی اتحاد میں شامل رہنما برسلز میں دوسرے دن بھی ملاقات کر رہے ہیں تاہم اس اجلاس میں برطانیہ شامل نہیں ہو گا۔

٭ برطانیہ اپنی پوزیشن واضح کرے: یورپی یونین

٭ ’باضابطہ درخواست سے پہلے غیر رسمی بات چیت نہیں ہو گی‘

یورپی اتحاد کی 40 سالہ تاریخ میں ایسا پہلی بار ہو گا جب برطانیہ اس اجلاس میں شرکت نہیں کرے گا۔

برطانوی وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون یورپی اتحاد میں شامل 27 دیگر ارکان برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہو جانے کے فیصلے کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔

برطانیہ کے یورپی اتحاد سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے یورپی یونین کے رہنماؤں سے برسلز میں ہونے والی ملاقات کے بعد کہا کہ یورپی اتحاد کے ساتھ مستقبل میں تجارت اور سکیورٹی جیسے معاملات اہم رہیں گے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ برطانوی ووٹروں کے لیے امیگریشن کا مسئلہ ’بہت تشویش‘ کا باعث تھا اور برطانیہ کی یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ تک رسائی بھی ’بہت بڑا چیلنج‘ ہو گی۔

دوسری جانب جرمن چانسلر چانسلر انگیلا میرکل نے کہا ہے کہ یورپی اتحاد برطانیہ کے یورپی یونین سے الگ ہونے کے فیصلے کا ’ہر صورت احترام کرے۔‘

تاہم انگیلا میرکل اور یورپی اتحاد کے دیگر رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ برطانیہ جتنا جلد ممکن ہو یورپی یونین چھوڑنے کے اپنے منصوبوں پر عمل کرے۔

یورپی اتحاد کے رہنما اس بات پر مصر ہیں کہ برطانیہ سے اس وقت تک غیر رسمی بات چیت نہیں کی جائے گی جب تک وہ باقاعدہ آرٹیکل 50 کو نافذ نہیں کرتا۔

انگیلا میرکل کا مزید کہنا تھا کہ اگر برطانیہ یورپی یونین کی سنگل مارکیٹ تک دوبارہ رسائی حاصل کرنا چاہتا ہے تو وہ آزادانہ نقل و حرکت کو ہر صورت تسلیم کرے۔

جرمن چانسلر نے کہا یورپی اتحاد کے ساتھ ظہرانے پر ہونے والے ملاقات میں برطانوی ریفرینڈم میں یورپی اتحاد سے نکلنے کے فیصلے پر ’بہت تفصیل اور شدت‘ سے غور کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ ہمیں برطانوی ریفرینڈم میں آنے والے نتیجے پر افسوس ہوا تاہم ہم نے واضح کر دیا ہے کہ برطانیہ کو آرٹیکل 50 کو نافذ کرنے کے لیے باقاعدہ بات چیت کرنے پڑے گی۔

اسی بارے میں