برطانیہ: سیاسی جماعتوں میں قیادت کی کشمکش شروع

تصویر کے کاپی رائٹ PA

یورپی یونین سے متعلق ریفرینڈم کے نتائج نے برطانیہ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں ہلچل مچا دی ہے۔

وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کی طرف سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھوڑنے کے اعلان کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی قیادت کے لیے کئی امیدوار سامنے آ چکے ہیں جبکہ لیبر پارٹی کے سربراہ جیریمی کوربن پر پارٹی کی سربراہی چھوڑنے کے لیے دباؤ بڑھ گیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے بدھ کے روز دارالعوام کے اجلاس کے دوران لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن کو ’قومی مفاد‘ میں پارٹی کی صدارت کو چھوڑنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا: ’خدا کے لیے عہدہ چھوڑ دو‘۔

ریفرینڈم میں برطانوی عوام کے فیصلےآنے کے ڈیوڈ کیمرون وزارت عظمیٰ کے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ لیبر پارٹی کے رہنما جیریمی کوربن ریفرینڈم میں متاثر کن کارکردگی نہ دکھا پانے پر پارٹی کے اندر سے عہدہ چھوڑنے کا دباؤ بڑھا رہے ہیں۔

اگر جیریمی کوربن خود پارٹی کے عہدے سے مستعفی نہ ہوئے تو پارٹی کے اندر سے عدم اعتماد کی تحریک کا سامنا کرنا پڑے گا۔

لیبر پارٹی کےسابق سربراہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ لیبر پارٹی کو اس مرحلے میں ترقی پسندانہ انداز میں ڈھالنا ہوگا نہ کہ دائیں بازو کے ردعمل کے طور پر۔

ایڈملی بینڈ نے کہا کہ ایسا شخص جو پارلیمانی پارٹی کے 75 فیصد اراکین کی حمایت کھو چکا ہو وہ پارٹی کا سربراہ نہیں رہ سکتا۔

ایڈ ملی بینڈ نے کہا کہ کچھ لوگ محسوس کرتے ہیں کہ ریفرینڈم میں نسل پرستانہ رویہ کو قانونی حیثیت دی گئی ہے اور ہمیں سب کو مل کرکہنا ہے کہ آپ ایسا ہمارے نام پر نہیں کرسکتے۔

ادھر کنزرویٹو پارٹی نئے پارٹی لیڈر کےلیے نامزدگیاں شروع کر دی ہیں۔ لندن کے سابق میئر بورس جانسن جو یورپ کوچھوڑنے کی مہم میں پیش پیش تھے، ان کا کنزرویٹو پارٹی کا نیا سربراہ بننے کے امکانات زیادہ ہیں۔ بورس جانسن کے علاوہ کئی دوسرے امیدوار بھی میدان میں آچکے ہیں۔

اسی بارے میں