’مصری طیارے میں دھوئیں کی موجودگی کی تصدیق‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ماہرین حادثے کی وجوہات بیان کرسکیں گے

مصر کے تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ ماہ حادثے کا شکار ہونے والے ایجپٹ ایئر کے طیارے بلیک باکس سے جہاز میں دھوئیں کی موجودگی کی تصدیق ہوئی ہے۔

منگل کو حکام کے مطابق تباہ ہونے والے جہاز کے فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر یا بلیک باکس کی فرانس میں کامیابی کے ساتھ مرمت کر لی گئی ہے۔

* ’مصری طیارے کے ڈیٹا ریکارڈر کی مرمت کر لی گئی‘

* مصر کے لاپتہ طیارے کا ’وائس ریکارڈر‘ مل گیا ہے

* مصر کے لاپتہ طیارے کا ملبہ بحیرۂ روم سے مل گیا

مصری حکام کے مطابق جہاز کے خودکار الیکٹرانک نظام نے پیغام بھیجا تھا کہ ٹوائلٹ اور کک پٹ کے نیچے نصب الیکٹرانک آلات کے حصے میں دھوئیں کی نشاندہی کرنے والے آلات بند ہو گئے ہیں۔

حکام کے کا کہنا ہے کہ یہ پیغام اس وقت بلیک باکس میں ریکارڈ ہوا جب اس کے چند منٹ بعد جہاز حادثے کا شکار ہو گیا۔

اس حادثے کی تحقیقات کرنے والے مصری حکام کے مطابق جہاز کے سامنے والے حصے پر بہت زیادہ درجہ حرارت کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے نشانات ملے ہیں۔

حادثے میں جہاز کے دوسرے بلیک باکس کو نقصان پہنچا تھا اور اس کی پیرس میں مرمت کی جا رہی ہے۔

امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے حاصل ہونے والی معلومات سے ماہرین حادثے کی وجوہات بیان کر سکیں گے۔

خیال رہے کہ 19 مئی کو ایجپٹ ایئر کی پیرس سے قاہرہ جانے والی پرواز ایم ایس 804 بحیرۂ روم میں گر کر تباہ ہوگئی تھی اور اس میں سوار تمام 66 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alex Snow Airteamimages.com
Image caption 19 مئی کو ایجپٹ ایئر کی پیرس سے قاہرہ جانے والی پرواز ایم ایس 804 بحیرہ روم میں گر کر تباہ ہوگئی تھی

پیرس میں استغاثہ حادثے سے متعلق قتل عام کی تفتیش شروع کر رہی ہے۔

استغاثہ کی خاتون ترجمان نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ اس کا آغاز حادثے کی تفتیش کے طور پر ہوگا کیونکہ تاحال اس میں دہشت گردی کے شواہد نہیں ملے۔

تفتیش کاروں کا خیال ہے کہ ایئر بس اے 320 کو جان بوجھ کر نہیں گرایا گیا تھا۔

خیال رہے کہ فلائٹ ریکارڈر مصری ساحل سے 290 کلومیٹر شمال میں 3,000 میٹر گہرائی سے جہاز کے ملبے سے ملے تھے۔

یونان کے تفتش کاروں کے مطابق جہاز پہلے 90 ڈگری پر بائیں جانب اور پھر دائیں جانب 360 ڈگری پر گھوما۔

جہاز کی بلندی 11 ہزار میٹر سے کم ہو کر 4,600 میٹر ہوئی اور پھر جہاز 3,000 میٹر کی بلندی پر آنے کے بعد لاپتہ ہو گیا۔

اسی بارے میں