جانے کا موسم

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بات کچھ اس طرح سے ہے کہ جیسے کوئی کہہ رہا ہو کہ جاؤ اب میں بھی نہیں کھیلتا۔

برطانیہ کو یورپی یونین سے علیحدہ کروانے میں پیش پیش لندن کے سابق میئر جو وزیرِ اعظم کیمرون کے بعد برطانیہ کے وزیرِ اعظم بننے کی دوڑ میں سب سے پرانے اور مضبوط امیدوار تھے لندن میں ایک تقریب میں آئے اور کہا کہ ساتھیوں سے بات کرنے کے بعد اور پارلیمنٹ کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں وہ لیڈر نہیں ہوں۔

اور ایک دم وہ بھی اس دوڑ سے چلے گئے۔

برطانیہ میں آج کل جانے کا موسم ہے۔

برطانوی عوام کی اکثریت نے لیو یعنی جانے کو ووٹ دیا اور یورپی یونین سے چلے جانے کے عمل کا آغاز کر دیا۔

وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ وہ اپنا عہدہ اکتوبر میں چھوڑ دیں گے تاکہ ان کے جانشین کو یورپی یونین سے برطانیہ کی علیحدگی پر بات چیت کا موقع مل سکے۔

اور حزبِ اختلاف کی جماعت کا تو اس سے بھی برا حال لگتا ہے۔ جانے کا ووٹ کیا جیت گیا ساری جماعت یا کم از کم 172 رکن پارلیمان اپنے لیڈر کو جانے کا کہنے لگ گئے۔ اور لیڈر صاحب ہیں کہ جانا ہی نہیں چاہتے۔ وہ کہتے ہیں کہ پارٹی کے ممبران نے لیڈر بنایا ہے اب وہ ہی اتار سکتے ہیں۔ یعنی کہ اگر میں نہیں کھیلوں گا تو کوئی اور بھی نہیں کھیلے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انگلینڈ فٹ بال ٹیم کے بیچارے مینیجر رائے ہاجسن بھی چپ چاپ جانے کا اعلان کر کے چلے گئے

ادھر فتح کے جوش میں کئی لوگ یہ سمجھ بیٹھے ہیں کہ دوسرے ممالک سے آئے سبھی افراد کو واپس بھجوانے کا ووٹ ملا ہے۔ اگرچہ ڈیوڈ کیمرون اور ان کی جماعت کے کئی اراکین کہہ چکے ہیں کہ ووٹ کو غلط نہیں سمجھنا چاہیے اور یہ برطانیہ کے لیے تھا اس میں رہنے والے شہریوں کو یہاں سے نکالنے کے لیے نہیں۔ لیکن پھر بھی کئی ایسے واقعات رپورٹ کیے گئے ہیں جہاں کئی بھائی بند دوسرے بھائی بندوں کو چلے جانے کا مشورہ اور وہ بھی ذرا بلند آواز میں دے رہے ہیں۔

سکاٹ لینڈ نے بھی اگرچہ ووٹ نہ جانے کو دیا لیکن ووٹ کے بعد جانے کی باتیں کرنے لگے۔ کچھ ایسی ہی باتیں آئرلینڈ میں بھی سنی گئیں۔

بات یہاں پر ختم نہیں ہوئی۔ یورو 2016 سے بھی آئس لینڈ نے ہمیں چلے جانے کا کہا اور ہم چل بھی دیے۔ پتہ نہیں کیوں اس کا دکھ ذرا زیادہ لگا۔

اور اس کے بعد کیا تھا انگلینڈ فٹ بال ٹیم کے بیچارے مینیجر رائے ہاجسن بھی چپ چاپ جانے کا اعلان کر کے چلے گئے۔

دعا ہے کہ جانے کا سلسلہ اب ذرا کچھ تھم جائے۔

جانے جانے کی رٹ سے دل ڈرنے لگ گیا ہے۔

اسی بارے میں