ترکی میں شامی پناہ گزین بچے تعلیم سے محروم

Image caption اس سکول میں پرائمری اور سیکنڈری سکول کی عمر والے لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم دی جا رہی ہے

ترکی میں امدادی تنظیموں اور اساتذہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک میں تقریباً پانچ لاکھ شامی پناہ گزین بچے سکول نہیں جاتے جس کی وجہ سے ان کے استحصال کا خطرہ ہے۔

لیکن ترک حکام اور دیگر اداروں کی کوششوں کے بعد سکول جانے والے بچوں کی تعداد میں دھیرے دھیرے اضافہ ہو رہا ہے تاکہ ’اس تباہ ہوتی نسل‘ کو بچایا جا سکے۔

ترکی میں کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے کہیں زیادہ پناہ گزین ہیں اور ان کی تعداد تقریباً تین تیس لاکھ ہے۔ ان میں بڑی تعداد شام سے آنے والے لوگوں کی ہے جن میں سات لاکھ بچے ہیں جن کی عمر سکول جانے والی ہے اور ان میں سے دو تہائی بچوں کو کسی طرح کی تعلیم میسر نہیں ہے۔

ایسی ہی ایک بچی کا نام لیما ہے جو تین سال سے سکول نہیں جا سکی۔ دمشق سے تعلق رکھنے والی لیما نے استنبول کی ایک ٹیکسٹائل فیکٹری میں اس وقت کام کرنا شروع کیا جب وہ صرف نو سال کی تھی۔

فیکٹری میں 14 گھنٹے کام کرنے کے بعد لیما کو ایک ہفتے میں محض 60 ترک لیرا ملتے تھےجو تقریباً 14 پاؤنڈ ہیں۔

اب لیما نے پناہ گزین کیمپ کے سکول جانا شروع کر دیا ہے۔اس طرح کے سکول ترک حکام اور دیگر ادارے چلا رہے ہیں جن میں عربی زبان میں تعلیم دی جا رہی ہے۔

شمونہ نام کے اس سکول میں پرائمری اور سیکنڈری سکول کی عمر والے لڑکے اور لڑکیوں کو تعلیم دی جا رہی ہے۔ سکول میں کوئی پلے گراؤنڈ نہیں ہے اور یہ بازار میں دوکانوں کے درمیان ہے۔

Image caption شامی بچے ترک فیکٹریوں میں کام کرتے ہیں

شمونہ چار سال پہلے دمشق ایجو کیشن انسٹیٹیوٹ کی سابق سربراہ شازہ برکات نے شروع کیے ہیں ۔

شازہ کا کہنا تھا کہ جب انھوں نے سکول کھولا تو انھیں کسی بھی طرح کی سرکاری امداد حاصل نہیں تھی۔ انھیں سکول کے کرائے کے لیے شام کے جلا وطن تاجروں سے بھیک مانگنی پڑی اور شامی پناہ گزین اساتذہ سے بغیر تنخواہ کے کام کی درخواست کرنی پڑی۔

اس کے بعد نصاب کی تلاش کی اور حکام سے درخواست کی کہ سکول مکمل کرنے والے بچوں کے سرٹیفکیٹ کو بھی منظوری دی جائِے۔

اب ترک حکام اور وزارت اس طرح کے سکولوں کو تسلیم بھی کرتی ہے اور ان کا معائنہ بھی کرتی ہے۔

اب یونیسیف اور یو این رضا کار اساتذہ کو ماہانہ تین سو ڈالر ادا کر رہی ہے اور ان سکولوں میں بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

لیکن اب بھی سکولوں کی تعداد زیادہ نہیں ہے اوردیگر ادارے جو سکول چلا رہے ہیں ان میں والدین کو فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔

اسی بارے میں