استنبول میں حملہ کرنے والے’ازبک، کرغز اور روسی‘ تھے

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اب تک استنبول کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی

ترکی میں ذرائع کا کہنا ہے کہ استنبول کے ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والوں کا تعلق ازبکستان، کرغستان اور روس کے علاقے قفقاز سے تھا۔

حملہ آوروں میں سے کم از کم ایک روس میں شمالی قفقار علاقے سے تھا۔

ترکی ایئرپورٹ حملہ، ہلاکتوں کی تعداد 42 ہو گئی

تاہم اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔

ترکی کے میڈیا پر دکھائی جانے والے ایک تصویر میں تین آدمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو حملے سے کچھ دیر قبل کی ہے۔ انھوں نے گہرے رنگ کی جیکٹس پہنی ہوئی ہیں اور ان کے پاس سامان ہے۔ ان میں سے دو نے ٹوپیاں پہن رکھی ہیں اور ایک مسکرا رہا ہے۔

ایک پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرزسے بات کرتے ہوئے ان نوجوانوں کی قومیت کے بارے میں تصدیق کی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption میڈیا پر دکھائی جانے والے ایک تصویر میں تین آدمیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو حملے سے کچھ دیر قبل کی ہے

بعض ایجنسیوں نے ایک شخض کا نام عثمان یندوف بتایا ہے جو شام میں دولتِ اسلامیہ کے گڑھ رقہ سے سنہ 2015 میں ترکی آیا تھا۔

دوسری جانب ترکی کی پولیس نے استنبول پر ہونے والے حملوں کے بعد نام نہاد دولتِ اسلامیہ کے مشتبہ شدت پسندوں کے خلاف چھاپے مارنے کا سلسلہ شروع کر دیا۔

پولیس نے استنبول میں چھاپوں کے دوران 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے جبکہ ساحلی شہر ازمور میں بھی متعدد لوگ گرفتار ہوئے۔

استنبول کے ہوائی اڈے پر ہونے والے بم حملوں میں کم سے کم 42 افراد ہلاک اور 230 افردا زخمی ہوئے جبکہ کہا جا رہا ہے کہ ان حملوں کے پیچھے دولتِ اسلامیہ کا ہاتھ ہے۔

مزید تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد پتا چلا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد ہوائی اڈے کے ملازمین تھے۔

ایک ترک اہلکار نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’آج صبح پولیس نے 16 مقامات پر چھاپے مارے اور 13 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ان میں تین غیر ملکی بھی شامل ہیں۔‘

ترک میڈیا کے مطابق انسداد دہشت گردی کی پولیس نے استنبول کے کئی علاقوں میں چھاپے مارے ہیں۔

ازمیر شہر میں بھی کم سے کم 9 لوگوں کو دولت اسلامیہ کی مالی، اہلکاروں کی بھرتی اور انتظامی مدد فراہم کرنے کے شبے میں گرفتار کیا۔

Image caption مزید تفصیلات کے سامنے آنے کے بعد پتا چلا ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں متعدد ہوائی اڈے کے ملازمین تھے

اسی اثنا میں ترک میڈیا نے رپورٹ کیا کے سکیورٹی فورسز نے شام سے منسلک سرحد پر گذشتہ سنیچر کو بھی دولتِ اسلامیہ کے دو مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کیا تھا۔ میڈیا کے مطابق ان کا ارادہ انقرہ پر حملہ کرنے کا تھا۔

اب تک استنبول کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کی ذمہ داری کسی نے بھی قبول نہیں کی۔

ترک وزیرِ اعظم نے حملے میں مرنے والوں سے اظہارِ ہمدردی کیا۔

صدر اردوغان نے بدھ کو قومی یومِ سوگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

اسی بارے میں