آسٹریا: صدارتی انتخاب کالعدم قرار، دوبارہ الیکشن کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

آسٹریا کی آئینی عدالت نے ملک میں ہونے والے انتخابات کو کالعدم قرار دیتے ہوئے دوبارہ انتخابات کا حکم دیا ہے۔ ان انتخابات میں انتہائی دائیں بازوں کی جماعت فریڈم پارٹی کے اُمیدوار کو بہت کم ووٹوں سے شکست ہوئی ہے۔

الیگزینڈر وین ڈیر بالن نے آسٹریا کے صدارتی انتخابات جیت کر نوبٹ ہوفر کو یورپی یونین میں دائیں بازو کا پہلا صدر منتخب ہونے سے روک دیا ہے۔

جس کے بعد فریڈم پارٹی نے انتخابات کے نتائج کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے کہا تھا کہ پوسٹ کیے جانے والوں ووٹوں کی گنتی غیر قانونی اور غیر مناسب طریقے سے کی گئی۔

یاد رہے کہ فریڈم پارٹی کے اُمیدوار نوبٹ ہوفر کو جیتنے والی گرین پارٹی کے امیدوار وین ڈیر بالن نے محض ایک فیصد ووٹوں سے شکست دی۔

اب ملک میں دوبارہ انتخابات ہوں گے۔

آئینی عدالت کے سربراہ نے کہا کہ ’فریڈم پارٹی کے رہنما نے 22 مئی کے انتخابات کے جو نتائج چیلنج کیے ہیں انھیں برقرار رکھا ہے۔‘

عدالت نے دو ماہ کی سماعت کے بعد یہ فیصلہ سنایا ہے۔ فریڈم پارٹی کے وکلا کا موقف تھا کہ 117 اضلاع میں سے 94 سے پوسٹ کیے جانے والے ووٹوں کی گنتی صحیح نہیں ہوئی ہے۔

انھوں نے الزام لگایا کہ ہزاروں ووٹوں کو انتخابی قوانین کی طے شدہ شرائط سے پہلے کھول لیا گیا اور بعض ایسے افراد نے ان ووٹوں کی گنتی کی جنھیں وٹوں کی گنتی کا اختیار ہی نہیں تھا۔

فریڈم پارٹی نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایسے شواہد بھی ملے ہیں جن کے مطابق 16 سال سے کم عمر اور غیر ملکی افراد کو بھی ووٹ ڈالنے کی اجازت دی گئی۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ انتخابی قوائد کو توڑا گیا اور نتائج میں اثر ر و رسوخ استعمال کیا گیا لیکن فیصلے میں یہ نہیں کہا گیا کہ ووٹوں کی گنتی میں ہیر پھیر ہوئی ہے۔

عدالت نے ملک میں دوبارہ انتخابات کروانے کا حکم دیا ہے۔

اگر فریڈم پارٹی کے رہنما مسٹر نوبٹ ہوفر دوبارہ ہونے والے انتخابات میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ یورپی یونین میں شامل کسی بھی ملک کے پہلے سربراہ ہوں گے جن کا تعلق انتہائی دائیں بازوں کی جماعت سے ہے۔

اُن کی جماعت نے انتخابی مہم امیگریشن پر تحفظات اور معیار زندگی میں کمی کی بنیاد پر چلائی تھی۔

اسی بارے میں