آسٹریلوی وزیر اعظم انتخابات میں کامیابی کے لیے ’پراعتماد‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption وزیر اعظم ٹرنبل کی حکومت کے فتح کے امکانات ظاہر کیے جا رہے ہیں

آسٹریلیا کے وزیر اعظم میلکم ٹرنبل کا کہنا ہے کہ وہ حکومت بنانے کے لیے پر اعتماد ہیں۔ تاہم انتخابات کے نتائج کے بارے میں فی الحال یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

آسٹریلیا کے انتخابات میں انتہائی سخت مقابلہ ہو رہا ہے۔ لبرل نیشنل پارٹی کی اتحادی حکومت کو گنتی میں برتری حاصل ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اسے آزاد اور چھوٹی جماعتوں کی حمایت کے بغیر اقتدار میں رہنے کے لیے درکار 76 نشستیں حاصل ہو سکیں گی۔

٭ آسٹریلیا میں انتخابات، انٹارکٹکا میں ووٹنگ

٭ ہم جنس پرستوں کے مخالف عالم آسٹریلیا چھوڑ گئے

وزیر اعظم میلکم ٹرنبل نے کہا کہ ’ایک بات تو یقینی ہے کہ لیبر پارٹی دوبارہ اقتدار میں آ رہی ہے۔‘

اب تک آدھے ووٹوں کی گنتی ہو چکی ہے جن کے نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ مقابلہ انتہائی قریب ہے۔

ڈاک کے ذریعے ڈالے جانے والے ووٹوں اور قبل از انتخابات ووٹوں کی گنتی جاری ہے جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی نشستوں پر مقابلہ آخر تک جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نک زینوفون کی نئی سیاسی جماعت نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے

اس سے قبل ہفتے کو ایک کروڑ لوگوں نے ووٹ ڈالے، جب کہ اس سے قبل 40 لاکھ ووٹ ڈالے جا چکے تھے۔

وزیر اعظم اور حزب اختلاف کے رہنماؤں نے آٹھ ہفتے کی مہم کے بعد جمعے کو ووٹروں سے کثیر تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کی ہے۔

بظاہر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ آسٹریلوی ووٹر چھوٹی جماعتوں کو سزا دینے کے درپے ہیں۔ انھوں نے بڑی تعداد میں آزاد اور چھوٹی جماعتوں کو ووٹ دیے ہیں۔

سینٹیر نک زینوفون اب ممکنہ بادشاہ گر کے روپ میں سامنے آئے ہیں جن کی نئی نویلی سیاسی جماعت نے جنوبی آسٹریلیا میں ایک ایسی نشست جیت لی جو روایتی طور پر لبرل جماعت کی ملکیت سمجھتی جاتی تھی۔

کوینزلینڈ میں پالین ہینسنز کی ون نیشن جماعت کو بھاری ووٹ پڑا ہے، اور اگرچہ اس نے ایوانِ زیریں کی کوئی نشست نہیں جیتی، لیکن اس کے رجحانات کا اثر لیبر پارٹی پر پڑا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption آسٹریلیا میں ہر شہری کے لیے ووٹ ڈالنا لازمی ہے اور وہاں تقریباً ڈیڑھ کروڑ افراد اپنا حقِ رائے دہی استعمال کر رہے ہیں

برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد بظاہر آسٹریلوی وزیر اعظم میلکم ٹرنبل کو فائدہ ہوتا نظر آ رہا ہے۔

لیکن لیبر پارٹی کے رہنما بل شورٹن نے کہا ہے کہ انھیں ابھی بھی جیت کی توقع ہے۔

تاہم شورٹن نے شکست کی صورت میں پہلے سے ہی اپنی سربراہی کے متعلق سوالات کے جوابات دینے شروع کر دیے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران حکومت اور لیبر پارٹی کے درمیان، معیشت، صحت، امیگریشن اور ایک ہی جنس کے درمیان شادی جیسے موضوعات پر اختلافات تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حزب اختلاف کے رہنما بل شورٹن کی ترجیحات میں ایک ہی جنس کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت دینا ہے

برطانیہ کے ریفرینڈم کے نتائج واضح ہونے کے بعد وزیر اعظم ٹرنبل نے ووٹروں کو یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ معیشت میں بہتری لا سکتے ہیں۔

اس کے برخلاف شورٹن نے اپنی پارٹی کی کامیابی کی صورت میں ایک ہی جنس کے درمیان شادی کو قانونی حیثیت دینے کو اپنی اولین ترجیحات میں شامل کیا ہے۔

اسی بارے میں