غزہ کے لیے امداد، ترک جہاز اسرائیل پہنچ گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

غزہ کے علاقے میں امداد پہنچانے کے لیے ترکی کا بحری جہاز اسرائیل کی بندرگاہ اشدود پہنچا ہے۔

ترکی اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی کے بعد یہ پہلا امدادی جہاز ہے جو اسرائیل پہنچا ہے۔

اتوار کو پہنچنے والی امدادی جہاز 35 گھنٹے کی مسافت طے کر کے اشدود کی بندرگاہ پہنچا۔ جہاز پر 10 ہزار ٹن سے زائد وزن کا امددی سامان موجود ہے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات بحال کرنے پر اتفاق ہوا تھا۔

اس سے قبل سنہ 2010 میں غزہ کے لیے امداد لے جانے والے ترکی کے جہاز فلوٹیلا پر اسرائیل کے حملے کے بعد ترکی اور اسرائیل کے مابین تعلقات میں کشیدگی آئی تھی۔

اس حملے میں اسرائیل نے ترکی کے 10 امدادی کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسرائیل اور ترکی نے چھ سال قبل غزہ جانے والے بحری قافلے پر اسرائیل فوجیوں کی فائرنگ سے دس ترک کارکنوں کی ہلاکت کے پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کر کے اپنے تعلقات بحال کرنے کا معاہدہ کیا ہے۔

اس معاہدے سے ترکی کو فلسطینی علاقوں میں امداد پہنچانے اور تعمیراتی کام کرنے کی اجازت ہوگی۔اسرائیل ہلاک ہونے والے سرگرم کارکنوں کے خاندانوں کو 2 کروڑ ڈالر ہرجانہ بھی ادا کرے گا۔

ترکی کی ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ اتوار کو پہنچنے والے امدادی جہاز میں خوراک، کپڑے اور جوتے ہیں۔

ترکی کی جانب سے غزہ کے افراد کے لیے یہ امداد رمضان کے اختتام پر عید الفطر کے موقعے پر بھجوائی جا رہی ہے۔

سنہ 2010 میں اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ کیا ہوا تھا اور اسرائیل کا کہنا تھا کہ امدادی کے نام پر حماس کو اسلحہ پہنچایا جا رہا ہے جبکہ غزہ میں خوراک پانی اور ادویات کی قلت ہو گئی تھی۔

اسی بارے میں