بغداد: ہلاکتیں 165، عراق میں تین روزہ قومی سوگ

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عراق کے دارالحکومت بغداد میں سنیچر کی شب ہونے والے بم دھماکے میں ہلاک شدگان کی تعداد 165 ہوگئی ہے جبکہ ملک میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔

عراقی حکام کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں 225 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

٭ بغداد میں ہلاکتوں کے بعد عراق سوگوار: تصاویر

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

عراقی حکومت نے بم دھماکوں کے بعد بغداد کے داخلی راستوں پر سکیورٹی کے انتظامات میں بہتری لانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ناقص بم ڈیٹیکٹر پر پابندی عائد کی جائے گی۔

عراق میں اس قسم کے کارروائیاں روکنے میں ناکامی پر عوامی سطح پر برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

بغداد میں سینکڑوں کی تعداد میں شہری جائے وقوعہ پر جمع ہوئے اور انھوں نے شمعیں روشن کیں۔

ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج اور پولیس کی موجودگی میں بھی سکیورٹی نہیں تھی اور سیاستدانوں کو اپنی ناکامی کی قیمت چکانا ہوگی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption بغداد میں بم دھماکے کی جائے وقوعہ پر سنکڑوں نے تعداد میں شہریوں نے شمعیں روشن کیں

خیال رہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لدی بس کی مدد سے کیا جانے والا یہ دھماکہ بغداد کے مرکزی علاقے کرادہ کے مصروف بازار میں اس وقت ہوا تھا جب یہاں عید سے قبل خریداری کرنے والے افراد کا رش تھا۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں خاندان کے خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں اور بہت سی لاشیں جلنے کی وجہ سے ناقابلِ شناخت ہیں۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق مرنے والوں میں بہت سے بچے شامل ہیں۔

اتوار کو رات گئے تک امدادی کارکن کرادہ میں بم دھماکے کے مقام سے ملبہ صاف کرتے رہے اور جلی ہوئی عمارت کی تلاشی کا عمل بھی جاری تھا۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے بھی اتوار کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا تو انھیں مشتعل ہجوم کا سامنا کرنا پڑا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیراعظم عبادی مشتعل عوام کے جذبات سے آگاہ ہیں اور شہروں میں سکیورٹی کی چیکنگ کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آتشیں مواد اور بموں کی جانچ کے جعلی آلات کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

بم کا پتہ لگانے کے لیے بنائے جانے والے یہ جعلی ڈیٹیکٹرز بڑے پیمانے پر عراقی مارکیٹ میں بیچے جاتے رہے ہیں۔

ایک برطانوی بزنس مین کو اس قسم کے 6000 آلات کو فروخت کرنے کے جرم میں دس سال کی سزا دی گئی تھی۔

برطانیہ نے سنہ 2010 میں ان آلات کی عراق برآمدگی کو روک دیا تھا جبکہ بہت سے دیگر دھوکے بازوں کو بھی سزائیں دی گئیں تھیں۔

یہ بتائے جانے کے باوجود کہ بہت سے آلات جعلی ہیں اب بھی عراقی فوج ان آلات کو استعمال کر رہی ہے۔

خیال رہے کہ یہ دھماکے گذشتہ دنوں عراقی افواج کی جانب سے فلوجہ شہر کو دولت اسلامیہ کے شدت پسندوں سے چھڑوانے کے بعد ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ فلوجہ کو بغداد پر حملوں کے لیے ’لانچنگ پیڈ‘ کے طور پر استعمال کرتی تھی۔

دولت اسلامیہ نے عراق کے شمال اور مغربی حصوں اور دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کر رکھا ہے۔

تاہم اس گروہ کو عراق اور ہمسایہ ملک شام میں سخت دباؤ کا سامنا ہے جہاں حکومتی فوجوں اور امریکہ کے حمایت یافتہ باغی انھیں نشانہ بنا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

عراق میں ہونے والے حالیہ دھماکے

نو جون 2016: بغداد میں دو خودکش دھماکوں میں کم از کم 30 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ ان حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

17 مئی 2016: بغداد میں چار کم دھماکوں میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے تین نم دھماکوں میں شیعہ اکثریتی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

11 مئی 2016: بغداد میں کار بم دھماکوں میں کم از کم 93 افراد ہلاک ہوئے جن میں 64 کے ہلاکت شیعہ اکثریتی علاقی صدر سٹی میں ہوئی۔

یکم مئی 2016: عراق کے جنوبی شہر سماوا میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے۔

26 مارچ 2016: عراق کے وسطی شہر اسکندریہ میں فٹبال میچ کے دوران خودکش دھماکے میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے۔

6 مارچ 2016: عراقی شہر ہلہ میں ایک چیک پوسٹ پر فیول ٹینکر کو اڑا دیا گیا جس سے 47 افراد ہلاک ہوگئے۔

28 فروری 2016: بغداد کے علاقے صدر سٹی میں دو خودکش دھماکوں میں 70 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں