’برطانیہ کو صدام حسین سے فوری خطرہ نہیں تھا‘

عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری انکوائری کے چیئرمین سر جان چلکوٹ نے کہا ہے کہ برطانیہ نے عراق پر حملے میں شامل ہونے سے پہلے تمام پرامن طریقوں کو استعمال نہیں کیا تھا اور عراق کے خلاف فوجی کارروائی آخری حل نہیں تھا۔

سرجان چلوکوٹ نے کہا کہ برطانیہ نے عراق پر یلغار میں شریک ہونے سے پہلے تمام پرامن ذرائع کو استعمال نہیں کیا۔

انھوں نے کہا کہ عراق کے بڑی پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے متعلق رائے جس انداز میں پیش کی گئی وہ صحیح نہیں تھا اور حملے سے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال سےنمٹنے کے لیے منصوبہ بندی ’انتہائی ناکافی‘ تھی۔

سرچلکوٹ نے کہا کہ شاید عراق میں فوجی کارروائی ضروری ہوتی لیکن مارچ 2003 میں برطانیہ کو صدام حسین سے کوئی فوری خطرہ نہیں تھا۔ انھوں نے کہا انھیں (صدام حسین) کو روکنے کی پالیسی اپنا کر اسے کچھ عرصے تک اسے جاری رکھا جا سکتا تھا۔

سرجان چلکوٹ سرکاری انکوائری سے متعلق معلومات عام کر رہے ہیں۔

مزید تفصیلات تھوڑی دیر بعد۔۔

عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری انکوائری کے چیئرمین سر جان چلکوٹ نے رپورٹ کے منظر عام سے قبل کہا تھا کہ ان کو امید ہے کہ ان کی رپورٹ سے مستقبل میں اتنے بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت محتاط تجزیے اور سیاسی دانشمندی سے کی جائے گی۔

اس انکوائری کا آغاز سات سال قبل کیا گیا تھا۔

سر جان چلکوٹ نے کہا ’اہم توقع یہ ہے کہ مستقبل میں اتنے بڑے پیمانے پر فوجی مداخلت یا سفارتی کوشش جو اتنی اہم ہو محتاط تجزیے اور مشترکہ سیاسی دانشمندی سے کی جائے گی۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’اس رپورٹ سے بہت سبق سیکھے جا سکتے ہیں لیکن سب سے اہم بات مستقبل کے حوالے سے ہے۔‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ان کا کہنا تھا کہ ان کو یقین ہے کہ یہ انکوائری رپورٹ ان فیصلوں کی قابل اعتماد عکاسی کرتی ہے جن کے باعث برطانیہ نے امریکہ کے ساتھ عراق پر حملے میں حصہ لیا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ رپورٹ جس کو ایک سال میں مکمل ہونا تھا اور 26 لاکھ الفاظ پر مشتمل ہے کو سات سال لگے تو سر جان چلکوٹ نے کہا کہ یہ بہت بڑی ذمہ داری تھی۔

لیبر جماعت سے تعلق رکھنے والے وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی جانب سے برطانوی فوج کو عراق بھیجنے کا فیصلہ 50 سال میں خارجہ پالیسی کا سب سے متنازع فیصلہ تھا۔

انکوائری رپورٹ میں 100 گواہوں میں ٹونی بلیئر بھی شامل تھے اور وہ اس انکوائری بورڈ کے سامنے دو بار پیش ہوئے۔

چلکوٹ رپورٹ وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کو پیش کر دی گئی ہے اور ایک بار جب سر جان چلکوٹ اس رپورٹ کے حوالے سے بیان دے دیں گے تو یہ رپورٹ آن لائن موجود ہو گی۔

عراق جنگ میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کے اہل خانہ کو اس رپورٹ تک رسائی پہلے دے دی جائے گی لیکن بہت سے اہل خانہ اس رپورٹ کا بائیکاٹ کر رہے ہیں کیونکہ ان کے خیال میں حقائق پیش نہیں کیے جائیں گے۔

عراق جنگ

تصویر کے کاپی رائٹ PA

عراق میں فوجی مداخلت سے صرف 72 گھنٹے قبل دارالعوام میں ووٹ کیا گیا جس کے خلاف 217 ممبران نے ووٹ دیا جن میں لیبر کے 139 ممبران بھی شامل تھے۔

لیبر حکومت کے وزیر خارجہ روبن کُک سمیت کئی ممبران مستعفی ہوئے تھے۔ اس مداخلت پر ووٹ ہونے سے قبل لاکھوں افراد نے لندن سمیت کئی شہروں میں مظاہرے کیے۔

اسی بارے میں