اشتہار میں نیلسن مینڈیلا کی آواز پر خاندان والے برہم

تصویر کے کاپی رائٹ DA

جنوبی افریقہ کی مرکزی حزب اختلاف کے لیے بنائے گئے انتخابی اشتہار میں سابق صدر نیسلن مینڈیلا کی آواز استعمال کرنے پر ان کے خاندان والوں نے شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔

یوٹیوب پر چلنے والے اس اشتہار میں ایک نوجوان خاتون کو پولنگ سٹیشن میں دکھایا گیا ہے جو کہ حکمراں جماعت اے این سی کے حق میں ووٹ ڈالنے پر غور کر رہی ہیں۔

اتنے میں نیلسن مینڈیلا کی آواز سنائی دیتی ہے جس میں وہ انصاف، امن، ملازمت اور روٹی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کو سننے کے بعد وہ خاتون ڈیموکریٹک الائنس کے حق میں ووٹ ڈالنے کا فیصلہ کر لیتی ہے۔

چیف مانڈلا مینڈیلا نے ڈیموکریٹک الائنس پر اپنے دادا کے نام کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگایا ہے۔

انھوں نے اے این این 7 نیوز نیٹ ورک کو بتایا کہ ’ڈیموکریٹک الائنس یہ کام اس جماعت کو فائدہ پہنچانے کے لیے کر رہی ہے جس کے مینڈیلا کبھی رکن نہیں رہے۔‘

مانڈلا مینڈیلا نے جوکہ خود بھی رکن پارلیمان ہیں، ڈی اے سے اس اشتہار کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب ڈی اے نے اس اشتہار میں سابق صدر کی آواز کے استعمال کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ عظیم انسان ایک غیر نسل پرستانہ جنوبی افریقہ کے لیے کھڑے ہوئے تھے۔‘

ڈیموکریٹک الائنس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’ڈی اے واحد جماعت ہے جو جنوبی افریقہ کو غیر نسل پرستانہ مستقبل کی جانب لے جانے میں کامیاب ہوئی۔ یہ کہنا کہ مینڈیلا تمام جنوبی افریقہ کے نہیں انتہائی غلط ہے۔‘

اسی بارے میں