شام: ’چار شہروں میں محصور افراد کی ہلاکت کا خدشہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

اقوام متحدہ کے مطابق شام کے چار شہروں میں تقریباً 62 ہزار افراد پھنسے ہوئے اور شدید فاقہ کشی کا شکار ہیں۔

عالمی ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ فاقہ کشی کے سبب ان افراد کے ہلاک ہونے کا خطرہ ہے۔

دمشق میں اقوام متحدہ کے کنوینر یعقوب الحلو نے صحت اور طبی امداد کے پیش نظر لوگوں کو فوری طور پر وہاں سے نکالے جانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہاں فوری طور پر انسانی بنیادوں پر امداد فراہم کرنے کے لیے غیر مشروط رسائی فراہم کی جائے۔

* دولتِ اسلامیہ کے قصبے پر شامی باغیوں کا حملہ

* داریا میں امدادی سامان پہنچنے کے بعد حملہ

شام کے دارالحکومت کے باہر حکومت نواز فوجیوں کے حصار والے دو شہروں مدایا اور زبدانی میں لوگوں کو کچھ امداد پہنچی ہے جب کہ باغیوں کے قبضے والے شمال مغربی شہروں فوا اور کفرایہ میں اسی طرح کے حالات ہیں۔

دریں اثنا ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی نے گذشتہ سال دسمبر میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے قبضے سے واپس حاصل کیے جانے والے عراقی شہر رمادی کی گلیوں میں ہونے والی تباہی کی ویڈیو جاری کی ہے۔ یہ ویڈیو ڈرون کے ذریعہ شوٹ کی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے صدر پیٹر مورر نے وہاں کے حالات کو ’انسانی تباہی‘ قرار دیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’لوگوں کی پریشانیاں اور تکالیف آج تک کی اپنی سب سے شدید سطح تک پہنچ چکی ہے۔ ہزاروں لوگ مارے جب کہ لاکھوں شہر چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ خاندان بکھر گئے ہیں۔ رمضان کا مہینہ ختم ہونے کو ہے اور بہت سے لوگ اب بھی شدید خوف ہے اور وہ بے یقینی کے ماحول میں ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا: ’ایک انسانی تباہی ہمارے سامنے ہے اور حالات ہر کسی کے لیے بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں