نیو یارک میں مسجد کے باہر دو مسلمان نوجوانوں پر حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ afp

اتوار کی شام نیو یارک کے بروکلین اسلامک سنٹر کے باہر حملے میں دو نوجوان مسلمان نوجوان زخمی ہو گئے ہیں۔

انسانی حقوق کے کارکنوں نے پولیس سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آور نے نوجوانوں پر حملہ کرتے ہوئے جس طرح کے جملے ادا کیے وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں اس واقعے کو ’متعصبانہ حملے‘ کے طور پر دیکھا جائے۔

البتہ قانون نافذ کرنےوالے اداروں کے ذرائع نے خبررساں ادارے روئٹر کو بتایا ہے کہ اس واقعے کو ’متعصبانہ حملے ‘ کے طور پر نہیں دیکھا جا رہا ہے۔

کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز ( کیئر) کے نیو یارک چیپٹر کے مطابق ایک نوجوان پر اس وقت حملہ ہوا جب اس نے مسجد میں عبادت سے وقفہ کیا۔

کیئر کی جانب سے جاری ہونے والی سی سی ٹی وی فوٹیج میں حملہ آور کو ایک شخص کو گھونسے مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے اور جب وہ گر جاتا ہے تو ٹھوکریں مارتا ہے۔ جب سائیکل پر سوار ایک اور نوجوان قریب آتا ہے تو وہ شخص اس کا پیچھا کر کے اس پر حملہ کرتا ہے۔

کیئر کے مطابق حملہ آور کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے:’ تم مسلمان ساری دنیا کے مسائل کی جڑ ہو۔ ‘

کیئر کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر افاف نشیر نے کہا ہے کہ حملہ آور نے جس طرح سے جملے ادا کیے وہ اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اس واقعے کی تفتیش ’متصبانہ حملے‘ کے طور پر کی جائے۔

نیویارک پولیس کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ سولہ سالہ نوجوان کے سر میں چوٹیں آئی ہے اور ان کا ہسپتال میں علاج ہوا ہے جبکہ دوسرے نوجوان نے طبی امداد سے انکار کیا ہے۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع نے روئٹر کو بتایا کہ یہ حملہ تعصب کی بنیاد پر نہیں کیا گیا۔ذرائع نے بتایا کہ دونوں نوجوان کار میں سوار چالیس سالہ عورت کو ہراساں کر رہے تھے جب اس عورت کے بوائے فرینڈ نے ان پر حملہ کیا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذرائع نے بتایا کہ حملہ آور کی شناخت کر لی گی ہے اور اسے ڈھونڈنے کے لیے کوششیں جا ری ہیں۔

اتوار کو ہی ہیوسٹن میں تین افراد نےاس وقت ایک مسلمان ڈاکٹر پر فائرنگ کی جب وہ صبح کی نماز ادا کر کے واپس آ رہے تھے۔ اس سے ایک روز قبل فلوریڈا میں ایک مسلمان شخص کو مسجد کے باہر مارا پیٹا گیا۔

اسی بارے میں