عراق: امریکی حملے کے بعد سے مہلک ترین تشدد

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ دارالحکومت بغداد میں اتوار کو ہونے والے خود کش بم دھماکے میں ہلاک شدگان کی تعداد 250 ہو گئی ہے جو سنہ 2003 میں عراق میں امریکی حملے کے بعد سے اب تک سب سے مہلک ترین حملہ ہے۔

اس سے قبل حکومت نے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 165 بتائی تھی۔

٭ بغداد کے بازاروں میں دھماکے

٭ عراق میں تین روزہ قومی سوگ

٭ بغداد میں ہلاکتوں کے بعد عراق سوگوار: تصاویر

عراق میں تین روزہ سوگ منایا جا رہا ہے۔

عراقی حکام کا کہنا تھا کہ اس دھماکے میں 225 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔

عراقی حکومت نے بم دھماکوں کے بعد بغداد کے داخلی راستوں پر سکیورٹی کے انتظامات میں بہتری لانے کا وعدہ کیا ہے۔ اس ضمن میں ناقص بم ڈیٹیکٹر پر پابندی عائد کی جائے گی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

عراق میں اس قسم کے کارروائیاں روکنے میں ناکامی پر عوامی سطح پر برہمی کا اظہار کیا جارہا ہے۔

بغداد میں سینکڑوں کی تعداد میں شہری جائے وقوعہ پر جمع ہوئے اور انھوں نے شمعیں روشن کیں۔

ایک شہری نے بی بی سی کو بتایا کہ فوج اور پولیس کی موجودگی میں بھی سکیورٹی نہیں تھی اور سیاستدانوں کو اپنی ناکامی کی قیمت چکانا ہوگی۔

خیال رہے کہ دھماکہ خیز مواد سے لدی بس کی مدد سے کیا جانے والا یہ دھماکہ بغداد کے مرکزی علاقے کرادہ کے مصروف بازار میں اس وقت ہوا تھا جب یہاں عید سے قبل خریداری کرنے والے افراد کا رش تھا۔

امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں میں خاندان کے خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے ہیں اور بہت سی لاشیں جلنے کی وجہ سے ناقابلِ شناخت ہیں۔

Image caption بغداد میں بم دھماکے کی جائے وقوعہ پر سنکڑوں نے تعداد میں شہریوں نے شمعیں روشن کیں

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق مرنے والوں میں بہت سے بچے شامل ہیں۔

اتوار کو رات گئے تک امدادی کارکن کرادہ میں بم دھماکے کے مقام سے ملبہ صاف کرتے رہے اور جلی ہوئی عمارت کی تلاشی کا عمل بھی جاری تھا۔

عراق کے وزیراعظم حیدر العبادی نے بھی اتوار کو جائے وقوعہ کا دورہ کیا تو انھیں مشتعل ہجوم کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے تین روزہ سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ وزیراعظم عبادی مشتعل عوام کے جذبات سے آگاہ ہیں اور شہروں میں سکیورٹی کی چیکنگ کو یقینی بنانے کے انتظامات کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ آتشیں مواد اور بموں کی جانچ کے جعلی آلات کی روک تھام کو بھی یقینی بنایا جائے گا۔

بم کا پتہ لگانے کے لیے بنائے جانے والے یہ جعلی ڈیٹیکٹرز بڑے پیمانے پر عراقی مارکیٹ میں بیچے جاتے رہے ہیں۔

ایک برطانوی بزنس مین کو اس قسم کے 6000 آلات کو فروخت کرنے کے جرم میں دس سال کی سزا دی گئی تھی۔

عراق میں ہونے والے حالیہ دھماکے

نو جون 2016: بغداد میں دو خودکش دھماکوں میں کم از کم 30 افراد کی ہلاکت ہوئی۔ ان حملوں کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

17 مئی 2016: بغداد میں چار کم دھماکوں میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہوئے۔ ان میں سے تین نم دھماکوں میں شیعہ اکثریتی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

11 مئی 2016: بغداد میں کار بم دھماکوں میں کم از کم 93 افراد ہلاک ہوئے جن میں 64 کے ہلاکت شیعہ اکثریتی علاقی صدر سٹی میں ہوئی۔

یکم مئی 2016: عراق کے جنوبی شہر سماوا میں دو کار بم دھماکوں میں کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے۔

26 مارچ 2016: عراق کے وسطی شہر اسکندریہ میں فٹبال میچ کے دوران خودکش دھماکے میں کم از کم 32 افراد ہلاک ہوئے۔

6 مارچ 2016: عراقی شہر ہلہ میں ایک چیک پوسٹ پر فیول ٹینکر کو اڑا دیا گیا جس سے 47 افراد ہلاک ہوگئے۔

28 فروری 2016: بغداد کے علاقے صدر سٹی میں دو خودکش دھماکوں میں 70 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں