ٹونی بلیئر نے جارج بش کو کیا لکھا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ’ٹونی بلیئر نے عراق جنگ میں جارج بش کو مکمل حمایت کی یقین دہانی کرائی تھی‘
عراق جنگ کی تحقیقاتی رپورٹ میں سنہ 2001 سے 2007 تک اس وقت کے برطانوی وزیراعظم کے امریکی صدر کو لکھے گئے خطوط کو بھی شائع کیا گیا ہے۔

برطانیہ کے سابق وزیراعطم ٹونی بلیئر کی جانب سے عراق جنگ سے پہلے اس وقت کے امریکی صدر جارج بش کو لکھے گئے خطوط سے دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلقات کے بارے میں اندازہ ہوتا ہے۔

٭ چلکوٹ رپورٹ کے خاص نکات

’ہمیں صدام سے نمٹنے کی ضرورت ہے‘

ٹونی بلیئر کا جارج بش کو پیغام: 11 اکتوبر 2001

مشرق وسطیٰ میں صدام حسین کو ہٹانے کی حقیقی رضامندی پائی جاتی ہے لیکن اس کو ایک دوسرے سے ملانے کی مخالفت ہے۔۔۔۔ حالیہ مشن (افغانستان میں بمباری)۔۔۔ مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں صدام حسین سے نمٹنے کی ضرورت ہے لیکن اگر ہم اس وقت عراق پر وار کرتے ہیں تو ہم عرب دنیا، روس اور ممکنہ طور پر نصف یورپی اتحاد کو کھو دیں گے اور مجھے خوف ہے کہ اس کا تمام اثر پاکستان پر آئے گا، مجھے یقین ہے کہ ہم صدام حسین کے لیے حکمت عملی بنا سکتے ہیں جس پر آنے والے تاریخوں کو عمل کیا جا سکتا ہے۔‘

ٹونی بلیئر نے اس میں مزید کہا کہ پہلے مرحلے میں افغانستان میں فوجی کارروائی تھی جہاں نائن الیون حملے کے منصوبہ ساز چھپے ہوئے ہیں اور دوسرے مرحلے میں تمام شکلوں میں موجود دہشت گردی کے خلاف مہم ہے۔

ٹونی بلیئر کا جارج بش کو میمو: چار دسمبر 2001

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ٹونی بلیئر نے عراق جنگ میں اپنی غلطیوں کا اعتراف کیا ہے

اس میمو سے اندازہ ہوتا ہے کہ ٹونی بلیئر اور جارج بش 2001 سے کھلے عام صدام حسین کو ہٹانے کے بارے میں بات کرتے تھے اور نیوریاک میں نائن الیون حملوں کے ایک ماہ بعد۔

ٹونی بلیئر نے تجویز دی کہ عراق میں اقتدار کی تبدیلی کے معاملے کو درکار وقت تک اٹھایا جائے جب ہم اس مقام پر پہنچ جائیں جہاں ضرورت ہو تو بین الاقوامی حمایت کو کھوئے بغیر فوجی کارروائی کی جا سکے۔

اگر صدام حسین کا تختہ الٹنا اولین مقصد ہے تو یہ شام اور ایران کے ساتھ مل کر یا ان کی رضامندی سے کرنا بہت زیادہ آسان ہے بجائے اس کے ان تینوں کو ایک ساتھ نشانہ بنایا جائے۔ میں اس حق میں ہوں کہ ان دونوں کو ایک مختلف تعلقات کی بنیاد پر ایک موقع دینا چاہیے۔

افغانستان میں مداخلت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ٹونی بلیئر نے کہا کہ اگر یہ لوگوں کو ایک نئی امید دیتی ہے اور خاص کر اقتدار کی تبدیلی کو ایک اچھا نام دیتے ہیں تو اس صورت میں عراق پر ہماری دلیل کو فائدہ پہنچے گا۔

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------

جو کچھ بھی ہو میں آپ کے ساتھ ہوں گا۔۔۔

28 جولائی 2002

صدام حسین سے چھٹکارہ حاصل کرنا ایک ٹھیک کام ہے۔ وہ قابل ذکر خطرہ ہے۔ اس کو کنٹرول کرنا ہوگا لیکن جیسا کہ ہمیں القاعدہ کےمعاملے میں معلوم ہوا کہ خاتمہ ہمیشہ خطرناک ہوتا ہے۔ اس کے (صدام) جانے سے تمام خطہ آزاد ہو جائےگا اور اس کا اقتدار ممکنہ طور پر شمالی کوریا کے علاوہ دنیا میں سب سے زیادہ ظالمانہ اور غیر انسانی ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ اس کو ہٹانے کےلیے کیا آپ سمجھتے ہیں یا چاہتے ہیں کہ اتحاد کی ضرورت ہے؟

برطانیہ کی حمایت سے امریکہ اکیلا یہ کر سکتا ہے اور خطرہ یہ ہے کہ ہمیشہ کی طرح ایسی چیزوں سے غیر ارادی نتائج سامنے آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

فرض کریں یہ (کارروائی) فوجی اعتبار سے پیچیدہ ہوتی ہے، فرض کریں عراق میں شہریوں کی غیر متوقع ہلاکتیں ہوتی ہیں، فرض کریں عرب (ممالک) کے لوگ گلیوں میں آ جاتے ہیں، فرض کریں صدام حسین خود کو سیاسی طور پر مضبوط محسوس کرتا ہے، اور اگر روایتی فوجی اعتبار سے کمزور ہونےکی وجہ سےوسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کرتا ہے، فرض کریں بغیر کسی اتحاد کے، عراقی میں یہ جذبات پیدا ہوتے ہیں کہ عراق پر حملہ کیا گیا اور اس میں اصل عراقی ( صدام کے سپیشل گارڈز کے علاوہ) مزاحمت کا فیصلہ کرتے ہیں، اگر ہم جلدی جلدی جیت جاتے ہیں تو ہر کوئی ہمارا دوست ہو گا اگر ایسا نہیں اور وہ پہلے سے کسی کے پابند نہیں تو جوابی الزام تراشیوں کا سلسلہ بہت جلد شروع ہو جائے گا۔

ٹونی بلیئر کا 28 جولائی 2002 کو جارج بش کو میمو

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدام حسین کو ٹونی بلیئر اور جارج بش ہٹانے پر متفق تھے

تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق اس تحریر کو چھ صفحوں کے پیغام سے نکالا گیا ہے اور اس پر ذاتی خفیہ، امریکی صدر کے لیے درج ہے۔ اس کو نمبر 10 ( وزیراعطم کے دفتر) کے اہلکار ہی ارسال کرنے سے پہلے دیکھنے کے مجاز ہوتے ہیں۔

چلکوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق صدر بش کو ارسال کرنے سے پہلے اس کی کاپی کو نہ تو وزیر خارجہ اور نہ ہی وزیر دفاع کو دیکھاگیا تھا اور وزیر خارجہ جیک سٹرا بھی اسے بعد میں ہی دیکھ پائے۔

عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری انکوائری کے چیئرمین سر جان چلکوٹ کے مطابق اس مراسلے پر’ذاتی‘ کا درجہ دیاگیا تھا لیکن اس میں عراق پر حملے سے آٹھ ماہ پہلے برطانوی حکومت کی پوزیشن کے بارے میں جامع بیان کی عکاسی ہوتی ہے اور اس کو ارسال کیے جانے سے پہلے دونوں برطانوی وزرا کو اپنی اپنی رائے دینے کا موقع ملنا چاہیے تھا۔

’میری رائے میں نہ جرمنی اور نہ ہی فرانس اور ممکنہ طور پر اٹلی یا سپین بھی، اقوام متحدہ کی منظوری کے بغیر ہماری مدد کریں گے، اور یہاں میرا اصل نکتہ یہ ہے کہ عوامی رائے تو عوامی رائے ہوتی ہے۔ یہاں یورپ میں پائی جانے والی رائے کے برعکس امریکہ کسی اور ہی دنیا میں رہتا ہے۔

برطانیہ میں اس وقت مجھے حتمی طور پر یقین نہیں کہ پارلیمان سے مدد ملے گی، پارٹی، عوام اور کسی حد تک کابینہ سے اور یہ برطانیہ ہے۔ نائن الیون حملوں کے بعد امریکہ میں جس طرح سے فوری ضروت کا احساس پایا جاتا ہے عام طور پر یورپ کے لوگوں میں نہیں ہے اور اس لمحے پر ہمارا سب سے اچھا اتحادی روس ہو سکتا ہے۔

ٹونی بلیئر 28 جولائی 2002 کو جارج بش مراسلہ

تصویر کے کاپی رائٹ bbc

ٹونی بلیئر نے جارج بش کو بتایا ہے کہ اگر وہ ایک وسیع فوجی اتحاد چاہتے ہیں تو اس کے لیے اقوام متحدہ کی حمایت حاصل کرنا ہو گی، مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے عمل میں پیش رفت اور عوامی رائے میں تبدیلی کے لیے کام کرنا ہو گا۔ انھوں نے تسلیم کیا کہ امریکہ میں اس معاملے کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں لے جانے پر ہچکچاہٹ یا مزاحمت ہو سکتی ہے لیکن اصرار کیا کہ فوجی طاقت کے استعمال کے قانونی جواز حاصل کرنے کا یہ سب سے بہترین راستہ ہے۔

ایک پیراگراف پر’ شواہد` درج تھا جس میں ٹونی بلیئر نے دوبارہ لکھا کہ امریکی تھنک ٹینکس نے مجھے بتایا ہے کہ یہ غیر ضروری ہے لیکن ہمیں یہ کیس بنانے کی ضرورت ہے، اگر ہم بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا خلاصہ دوبارہ بیان کریں اور اس میں یہ اضافہ کریں کہ وہ ( صدام حسین) جوہری صلاحیت حاصل کرنے کی کوششیں کر رہا ہے اور یہ اضافہ کیا جائے کہ القاعدہ سے تعلق ہے اور یہ بہت زیادہ ترغیب دے گا اور ہاں اس کے ساتھ وہاں اقتدار کی مکروہ شکل۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ٹونی بلیئر کے جارج بش کو خط لکھنے کے تقریباً دو ماہ کے اندر اندر دونوں کی کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات ہوئی

ٹونی بلیئر نے آمر صدام حسین کے بارے میں شواہد پیش کرنے کی اہمیت پر زور دیا اگرچہ ان کو کسی نے دیکھا نہیں تھا۔ جس میں جس میں ممکنہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار، اور اس کے ساتھ یہ نائن الیون حملوں کے بعد القاعدہ کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش شامل ہے۔

یہ نوٹ بھیجنے کے دو ماہ کے اندر اندر ٹونی بلیئر نے صدر جارج بش کو کیمپ ڈیوڈ میں بتایا کہ اگر بات جنگ پر آتی ہے تو برطانیہ قابل ذکرحد تک فوجی کردار ادا کرے گا۔ یہ اس کے باوجود تھا کہ اس بات پر کوئی فیصلہ نہیں کیاگیا تھا کہ امریکہ کو منصوبہ بندی کےحوالے سے کیا فوجی مدد فراہم کی جائے۔

مجھے خوشی ہوگی کہ ہم اس تمام کو ایک ساتھ مل کر کرنے کی کوشش کریں لیکن اس کے لیے وقت اور توانائی کےحوالے سے ایک بڑی ذمہ داری کی ضرورت ہو گی اور اس کی قدر و اہمیت اصل میں جب ہوگی جب ہم تمام ایک ہی صفحے پر ہوں گے۔

وقت کے انتخاب پر یہ ہے کہ ہم اسے رواں موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد شروع کر سکتے ہیں اور حملے آئندہ برس 2003 میں جنوری، فروری میں شروع کیے جا سکتے ہیں لیکن اہم سوال یہ نہیں کہ کب بلکہ یہ ہے کہ کس طرح سے۔۔۔

اسی بارے میں