اسرائیل کی یہودی بستیوں کی توسیع پر امریکہ کی تنقید

Image caption غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں تقریباً ایک سو یہودی بستیوں میں تقریباً پانچ لاکھ یہودی رہتے ہیں

امریکہ نے مشرقی یروشلم اور غربِ اردن میں مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاریوں میں سینکڑوں نئے مکانات کی تعمیر کے اسرائیلی منصوبے پر تنقید کی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی نے اسرائیل کے اس منصوبے پر کہا کہ ’اس تازہ اقدام سے منظم طریقے سے زمین پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔‘

اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ منگل کو وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے اس منصوبے کو منظوری دی تھی۔

مشرقی وسطیٰ میں امن کے لیے کوشاں اقوام متحدہ، امریکہ، یورپی یونین اور روس پر مشتمل گروپ ( کوراٹیٹ ) نے بھی حال ہی میں اسرائیل کی نئی یہودی آباد کاری کے منصوبے پر تنقید کی تھی۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی نے اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا ہے کہ اسرائیلی منصوبے کے تحت، یروشلم کے بالکل قریب ہی معل عبدومن کے مقام پر 560 نئے مکانات تعمیر کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی تقریبا دو سو مکانات شہر میں تعمیر کیے جانے کا منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کے تحت مشرقی یروشلم میں ایک عرب بستی کے پاس ہی 600 سے زیاہ مکانات تعمیر کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان جان کربی کا کہنا تھا: ’اگر یہ سچ ہے تو یہ خبر منظم طریقے سے زمین پر قبضہ کرنے ، آبادکاری کی توسیع کرنے اور چوکیوں کو قانونی درجہ دینے کی سمت میں ایک نیا قدم ہے، جو بنیادی طور پر دو ریاستی حل کے امکانات کے لیے نقصان دہ ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اسرائیل اور فلسطین کے درمیان یہودی آبادی کاری ایک بڑا مسئلہ ہے

اسرائیل کے نئے منصوبوں پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے بھی تنقید کی ہے۔

اس حوالے سے انھوں نے ایک بیان میں کہا: ’اس سے یہ جائز سوال کھڑا ہوتا ہے کہ طویل مدت کے لیے اسرائیل کی نیت کیا ہے، اس کے ساتھ ہی بعض اسرائيلی وزرا غربِ اردن کے الحاق کی بھی بات کرتے رہے ہیں۔‘

کوراٹیٹ نے بھی اسرائیل کے نئے یہودی آبادی کے منصوبے پر یہ کہہ کر تنقید کی کہ اسرائیل فلسطینیوں کو ترقیاتی منصوبوں سے روک رہا جبکہ خود اسرائیل کے مفاد کے لیے زمین کو استعمال کر رہا ہے۔

غربِ اردن اور مشرقی یروشلم میں اسرائیل کے مقبوضہ علاقوں میں تقریباً ایک سو یہودی بستیوں میں تقریباً پانچ لاکھ یہودی رہتے ہیں۔

مشرقی یروشلم میں تقریباً دو لاکھ یہودی اور 370،000 فلسطینی مقیم ہیں۔

اسرائیل یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت مانتا ہے جبکہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو مستقبل میں اپنی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

فریقین میں امن مذاکرات 2014 سے تعطل کا شکار ہیں تب سے علاقے میں تشدد میں اضافہ دیکھا گيا ہے۔

اسی بارے میں