’مدینہ حملے کے ذمہ داروں سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP

سعودی عرب کے شاہ سلمان نے گذشتہ روز مدینہ میں مسجد نبوی کے قریب خود کش دھماکے پر کہا ہے کہ اس حملے میں ذمہ داروں سے ’آہنی ہاتھ‘ سے نمٹا جائے گا۔

یاد رہے کہ افطار کے وقت ہونے والے حملے میں چار سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

٭ جدہ میں امریکی قونصل خانے کے قریب خودکش دھماکہ

٭ سعودی عرب میں شیعہ مسجد پر حملہ، تین ہلاک، 18زخمی

شاہ سلمان نے کہا ’جو لوگ ہمارے نوجوانوں کے دل و دماغ کو ٹارگٹ کرتے ہیں ہم ان سے آہنی ہاتھ سے نمٹیں گے۔‘

اس حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

خیال رہے کہ مسجدِ نبوی میں پیغمبرِ اسلام دفن ہیں اور اسے مکہ میں مسجد الحرام کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے۔

مدینہ میں دھماکے سے قبل نمازِ مغرب کے وقت ہی سعودی عرب کے مشرقی شہر قطیف میں بھی ایک دھماکہ ہوا تاہم اس میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

قطیف سعودی عرب کی اقلیتی شیعہ آبادی کا گڑھ ہے اور یہ دھماکہ بھی ایک مسجد کے قریب ہوا۔

ان دھماکوں سے قبل اتوار اور پیر کی درمیانی شب جدہ میں بھی ایک دھماکہ ہوا تھا جہاں خودکش حملہ آور نے امریکی قونصل خانے کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔

عالمی ردعمل

مسجدِ نبوی کے باہر ہونے والے خودکش دھماکے کی عالمی سطح پر مذمت کی جا رہی ہے۔

پاکستان کے دفترِ خارجہ نے اس سلسلے میں منگل کو جاری ہونے والے بیان میں کہا ہے کہ پاکستان ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور سعودی حکام اور عوام کے غم میں برابر کا شریک ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی علاقائی سالمیت، تحفظ اور سکیورٹی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption مسجدِ نبوی کو مسجد الحرام کے بعد دنیا میں مسلمانوں کا سب سے مقدس مقام سمجھا جاتا ہے

ایران کے وزیرِ خارجہ جواد ظریف نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ دہشت گردوں نے سب حدیں عبور کر لی ہیں اور جب تک سنّی اور شیعہ متحد نہیں ہو جاتے دونوں نشانہ بنتے رہیں گے۔

مصر کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دہشت گرد کسی مذہب، عقیدے اور انسانیت پر یقین نہیں رکھتے۔

57 مسلم ممالک کی اسلامی تعاون کی تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ہونے والے حملے سعودی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش ہیں کیونکہ سعودی عرب کی سکیورٹی خطے اور عالمِ اسلام کے تحفظ اور استحکام کی بنیاد ہے۔

اسی بارے میں