برطانوی پاؤنڈ کی قیمت میں مسلسل کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

برطانیہ کے یورپی یونین سے علیحدگی کے ریفرنڈم کے فیصلے سے متاثر ہونے والی فنانشل مارکیٹ ابھی تک سنبھل نہیں پائی ہیں اور بدھ کو ڈالر کے مقابلے میں پاؤنڈ کی قدر گذشتہ 31 سال میں اپنی سب سے کم سطح پر پہنچ گئی۔

ایک موقع پر اس کی قدر کم ہو کر ایک اعشاریہ دو سات ڈالر پر ریکارڈ کی گئی جو جولائی 1985 کے بعد سے اب تک کم ترین سطح ہے۔ کچھ دیر بعد اس قدر میں قدرے اضافہ ہوا اور یہ واپس ایک پونڈ کی قیمت ایک اعشاریہ دو نو ڈالر پر آ کر ٹھہرگئی۔

پونڈ کی گرتی ہوئی قیمت کی وجہ ماہرین کے اُن خدشات کو قرار دیتے ہیں جن کا اظہار بینک آف انگلیڈ ’برگزٹ‘ کے بارے کرتا رہا ہے۔

ریفرنڈم سے قبل پونڈ کی ڈالر کے مقابلے میں قمیت ایک اعشاریہ پانچ تھی جو جب سے اب تک چودہ فیصد کم ہوئی ہے۔

چیف ایگزیکٹیو ای ٹی ایکس اینڈریو ایڈورڈ نے کہا کہ پاؤنڈ کے بارے میں جو خدشات ظاہر کیے جا رہے تھے وہ درست ثابت ہو رہے ہیں۔

بدھ کو پاؤنڈ کی قیمت یورو کے مقابلے میں صفر اعشاریہ چار فیصد کم ہوئی اور ایک پاؤنڈ ایک اعشاریہ ایک سات یورو پر آگیا۔ اس سے قبل سنہ 2013 میں پاؤنڈ کی قیمت یورو کے مقابلے میں اتنی کم ہوئی تھی۔

برطانیہ کا بازار حصص بھی مندی کا شکار ہے اور فٹسی ہنڈرڈ انڈکس بدھ کی دوپہر تک ایک اعشاریہ تین فیصد کم ہوئی۔

اسی بارے میں