چلکوٹ رپورٹ کے خاص نکات

تصویر کے کاپی رائٹ PA

عراق کی جنگ کے متعلق سرکاری انکوائری کے چیئرمین سر جان چلکوٹ نے بدھ کو سات سال کے طویل عرصے میں مرتب کی گئی رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ عراق کو وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کے لیے حملے سے قبل تمام پرامن طریقے اختیار نہیں کیے گئے۔

رپورٹ میں عراق پر حملہ کرنے سے قبل حکومت کی سطح پر اس اہم فیصلے پر پہنچنے کے لیے اپنائے گئے تمام طریقے اور امریکہ کے ساتھ اس وقت کے برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی خط و کتابت اور ملاقات کا مفصل احاطہ کیا گیا۔

یہ رپورٹ جس پر ایک اندازے کے مطابق دس لاکھ پاونڈ کی رقم خرچ کی گئی، 26 لاکھ الفاظ پر پھیلی ہوئی ہے۔ کمیشن نے سات سالہ انکوائری کے دوران سو سے زیادہ گواہوں کو بیانات دینے کے لیے طلب کیا اس میں سب سے اہم گواہ اس وقت کے وزیر اعظم ٹونی بلیئر تھے جو دو مرتبہ کمیشن کے سامنے پیش ہوئے۔

اس رپورٹ کے مزید اہم نکات :

  • اس وقت عراق پر فوج کشی کرنا آخری راستہ نہیں تھا۔
  • وسیع پیمانے پر تباھی پھیلانے والے ہتھیاروں کے خطرے کو بلاوجہ یقینی بنا کر پیش کیا گیا۔
  • صدام کے بعد عراق کی صورتحال سےنمٹنے کے لیے منصوبہ بندی ناکافی تھی۔
  • جنگ کے قانونی جواز پر بحث نہیں کی گئی
  • برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اختیارات کی اہمیت کو کم کیا۔
  • ناقص خفیہ اطلاعات پر پالیسی مرتب کی گئی۔
  • ٹونی بیلئر نے صدر بش کو لکھا کہ: ’جو کچھ بھی ہو میں آپ کے ساتھ ہیں۔‘
  • بلیئر نے امریکی کی پالیسی پر اثرا انداز ہونے کی اپنی صلاحیت کا غلط انداز لگایا۔

اسی بارے میں