’ایک شادی والے تو کنوارے لگتے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ ATHER KAZMI

’ میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ میں ایک سے زیادہ شادیاں کروں گا، لیکن آپ کو تو معلوم ہی ہے کہ ایسے فیصلے آسمانوں پر ہوتے ہیں۔‘

آصف (اصلی نام ظاہر نہیں کیا جا رہا) کا شمار ان برطانوی مسلمان مردوں میں ہوتا ہے جنھوں نے ایک سے زیادہ شادیاں کی ہوئی ہیں۔

آصف اب تک تین شادیاں کر چکے ہیں جن میں سے ایک ختم ہوگئی ہے جبکہ ان کی بقیہ دو بیویاں مغربی لندن میں رہتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ’دو بیویوں کو خوش رکھنا آسان نہیں ہے، آپ کی ذمہ داریاں بہت بڑھ جاتی ہیں، ایک شادی والے تو مجھے کنوارے لگتے ہیں۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ دونوں بیویوں کو کیسے خوش رکھتے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ’میں نے دونوں کو الگ رکھا ہوا ہے، ہفتے میں تین تین دن میں دونوں بیویوں کے ساتھ گزارتا ہوں۔ ساتواں دن میں نے اپنی سابقہ شادی سے ہونے والے بیٹے کے لیے رکھا ہوا ہے۔‘

برطانیہ میں اس بڑھتے ہوئے رحجان کو دیکھتے ہوئے ایک پاکستانی نژاد برطانوی نوجوان محمد آزاد نے ’سیکینڈ وائف ڈاٹ کام‘ نامی ویب سائٹ بنائی ہے۔

تقریباً 18 ماہ قبل بنائی گئی اس ویب سائٹ کے 18 ہزار سے زائد رجسٹرڈ ممبر ہیں۔ جن میں مرد و خواتین دونوں شامال ہیں۔

ویب سائٹ کے بانی محمد آزاد کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ’شاید کچھ لوگوں کے لیے یہ باعثِ حیرت ہو لیکن برطانیہ میں ہزاروں ایسی خواتین ہیں جو دوسری بیوی بننے کے لیے تیار ہیں۔ان میں بیشتر انتہائی پڑی لکھی اور پروفیشنل خواتین ہیں۔‘

ویب سائٹ پر رجسٹرڈ خواتین کی پروفائلز پر نظر ڈالی جائے تو ان میں آپ کو ٹیچرز ، کمپیورٹر پروگرامز اور دیگر اعلیٰ عہدوں پر فائز خواتین نظر آئیں گی۔

ویب سائٹ پر نومسلم سفید اور سیاہ فام خواتین کی بھی کثیر تعداد رجسٹرڈ ہے۔

سائٹ پر رجسٹرڈ ایک نومسلم سفید فام خاتون کے بقول ان کی حال ہی میں طلاق ہوئی ہے اور وہ ایک ایسے شوہر کی تلاش میں جن سے ان کی ہفتے میں دو یا تین بار ملاقات ہو جائے۔ ان کے بقول وہ ’فل ٹائم خاوند‘ کی تلاش میں نہیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

ایک ایسی ہی خاتون ثمینہ (اصلی نام مخفی رکھا جا رہا ہے) ہیں جو اپنے خاوند کے ساتھ دوسری بیوی کی حثیت سے رہ رہی ہیں۔

پاکستانی نژاد ثمینہ ایک تعلیم یافتہ اور کامیاب خاتون ہونے کے علاوہ وہ خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن بھی ہیں۔

ثمینہ کے بقول پہلی شادی کے ٹوٹنے کے بعد ان کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے انھوں نے دوبارہ شادی کرنے کا فیصلہ کیا۔

ثمینہ کا کہنا تھا کہ انھیں ایک ایسے ساتھی کی ضرورت تھیں جو مہینے یا ہفتے میں کچھ دن ان کا سہارا بن سکے۔ جس کی وجہ سے انھیں دوسری بیوی بننا بھی قبول تھا۔

ثمینہ کے شوہر اپنی پہلی بیوی اور بچوں کے ساتھ کے رہتے ہیں اور ہفتے میں کچھ دن ثمینہ کے ساتھ گزارتے ہیں۔

ثمینہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے فیصلے سے مطمئن ہیں۔

خیال رہے کہ برطانیہ میں دوسری شادی کرنا قانوناً جرم ہے اس لیے جو لوگ ایک سے زیادہ شادی کرتے ہیں وہ سرکاری طور پر اپنی شادی رجسٹرڈ نہیں کرواتے بلکہ صرف نکاح کر تے ہیں۔

اسلامک سینٹر آف انگلینڈ کے معاشرتی اور خاندانی امور کے شعبے کے سربراہ سید محمد رضوی کا شمار ان چند علماء میں ہوتا ہے جو لیگل رجسٹرار بھی ہیں یعنی وہ برطانوی قانون کے مطابق شادی کا سر ٹیفیکیٹ جاری کر سکتے ہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں میں شادی شدہ مسلمان مردوں میں دوسری شادی کے رحجان میں اضافہ ہوا ہے۔

محمد رضوی کا کہنا تھا کہ اکثر پروفیشنل لڑکیاں وقت پر شادی نہیں کر سکتیں اور ہماری کمیونٹی میں جب ایک خاتون کی عمر ذرا زیادہ ہو یا وہ طلاق یافتہ ہو تو مناسب رشتے نہیں ملتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Ather Kazmi

ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ لوگ پاکستان اور اپنے دیگر آبائی ملکوں سے بیٹوں کی شادیاں کرنے کو ترجیح دیتے ہیں اور یہ ہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے یہاں کی پروفیشنل خواتین بھی دوسری بیویاں بننے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔

سیدد محمد رضوی نے بتایا کہ ’ ہمارے پاس بہت سے ایسے لوگ آتے ہیں جو دوسری شادی کرنا چاہتے یہ لوگ سرکاری طور پر شادی کرنے کے بجائے صرف نکاح کرتے ہیں۔‘

انھوں نے بتایا کہ آئے روز خواتین اپنے شوہروں کی دوسری شادیوں کے بارے میں شکایات لے کر بھی آتی ہیں۔

محمد رضوی کے مطابق اگرچہ دوسری شادی کرنا برطانوی قانون کے مطابق جرم ہے لیکن نکاح کیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ قانونی شادی تصور نہیں ہوتا۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک ایسا رشتہ جس کی برطانوی قانون کی نظر میں کوئی حثیت نہیں ہے، کیا کسی قانونی پیچیدگی کا باعث بن سکتا ہے؟

لندن میں خاندانی امور کے قانون کے ماہر ’بینجیمن ابو‘نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’برطانوی قانون کے مطابق شادی کے رشتے میں منسلک افراد کو کچھ قانونی تحفظات حاصل ہوتے ہیں جن میں طلاق ہونے کی صورت میں جائیداد میں حصہ اور ضرویاتِ زندگی کے لیے خرچہ وغیرہ شامل ہیں۔‘

بینجیمن کے بقول ایسی خواتین جو شادی شدہ مردوں سےنکاح کرتی ہیں ان کو رشتہ ختم ہونے کی صورت میں کوئی قانونی تحفظ حاصل نہیں ہوتا۔

’ ہمارے پاس آنے والے ایسے کیسز میں اضافہ ہوا ہے جن میں دوسری بیویاں طلاق کے بعد اپنے حق کے لیے عدالت جانا چاہتی ہیں لیکن ہم قانونی طور پر ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔‘

آصف بھی ان تمام قانونی امور سے واقف ہیں اس لیے انھوں نے صرف ایک ہی شادی رجسٹرڈ کروائی ہے دوسری بیوی کے ساتھ انھوں نے صرف نکاح کیا ہے۔

آصف کا کہنا تھا کہ وہ کسی کو بھی ایک سے زیادہ شادیاں کرنے کا مشورہ نہیں دیں گے ان کے بقول رشتے نبھانا آسان نہیں ہے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اب مزید شادی نہیں کریں گے تو ان کا جواب تھا ’کیوں آپ کی نظر میں کوئی مناسب رشتہ ہے۔‘

اسی بارے میں