ہاتھی دانت کی سمگلنگ کے مشرقی ایشیائی نیٹ ورک

ایک تازہ رپورٹ کے مطابق مشرقی ایشائی ممالک کے کچھ مجرموں نے ہاتھی دانت کی سمگلنگ کے لیے اپنے نیٹ ورک کو پورے افریقہ میں پھیلا رکھا ہے۔

محقین کا کہنا ہے کہ اس سے وابستہ تنظیموں کو چینی اور ویتنامی شہری بدعنوان افسران کے ساتھ مل کر چلاتے ہیں اور وائلڈ لائف سے وابستہ غیر قانونی کاروبار پر قابو پانے میں وہی اب بڑا چیلنچ بھی ہیں۔

یہی لوگ شکار کرتے ہیں اور بڑے پیمانے پر غیر قانونی ہاتھی دانت کی کھیپیں دوسرے ممالک کو منتقل کی جاتی ہیں۔

وائلڈ لائف سے متعلق کاروباری سرگرمیوں کی تفتیش کرنے والی ایجنسی ’ٹریفک‘ کی اس سے متعلق تازہ معلومات اس بنیاد پر تیار کی گئی ہیں کہ ہاتھی دانت کی ضبطی کے سلسلے میں جو بھی گرفتاریاں ہوئی ہیں اس میں سے بیشتر چینی اور ویتنامی شہری ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Traffic

حکام کے مطابق جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے ب‏عض تھائی اور شمالی کوریا کے شہری بھی شامل ہیں۔

وائلڈ لائف سے متعلق عالمی کاروبار پر جو رپورٹ تیار کی گئی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ ’موجودہ وقت میں، ایشیائی مجرموں کا نیٹ ورک، جو مقامی سیاست دانوں اور اثر رسوخ والے افراد افریقہ سے ہاتھی دانت باہر بھیجنے میں سب سے آگے ہے۔‘

اس رپورٹ کے مطابق انگولا، کانگو، ایوری کوسٹ، مزامبیق، نائجیریا جنوبی افریقہ اور زمبابوے سمیت کئی افریقی ممالک میں ہاتھی کے دانتوں پر جو کام ہوتا ہے اس میں چینیوں کے ملوث ہونے کے براہ راست ثبوت پائے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

’ٹریفک‘ کے ریکارڈز کے مطابق سنہ 2011 اور 2014 کے درمیان بڑی تعداد میں ہاتھی کے دانتوں کو ضبط کرنے کے 61 بڑے واقعات سامنے آئے۔

اس کے علاوہ ’ٹریفک‘ کے ٹام ملیکین کا کہنا ہے کہ ’ان بیشتر ضبطیوں کے تعلق سے چینی اور ویتنامی شہریوں کو گرفتار کیا گيا۔‘

پتہ چلا ہے کہ مزامبیق ایک ایسا ملک ہے جہاں ہاتھی دانت کی سمگلنگ پر سزا نہیں ہوتی اسی لیے اس سے وابستہ ایشیائی ممالک کی تنظمیں وہاں سے آسانی سے اپنا آپریشن چلاتی ہیں۔

اس بارے میں بی بی سی نے جب چینی اور ویتنامی سفارت خانوں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی تو ان کی جانب سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا۔

30 ہزار سے بھی زیادہ ہاتھی ہر سال افریقہ میں دانتوں کے لیے ہلاک کیے جاتے ہیں اور اس میں سے بیشتر چین اور ویتنام پہنچ جاتے ہیں۔

ٹام ملیکین کہتے ہیں: ’آپ ہاتھی کے دانت کی بڑی کھیپ جیسے ایک ٹن، دو یا تین ٹن منتقل کرتے ہیں، چھوٹے لوگ تو ایسا کر نہیں سکتے۔‘

صرف ہاتھی ہی نہیں بلکہ گینڈے کے شکار اور اس کی سینگھ کی سمگلنگ سے متعلق بھی رپورٹ تیار کی گئی ہے جس کے مطابق گذشتہ ایک عشرے میں تقریباً چھ ہزارگینڈوں کا شکار کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس پر قابو پانے کے لیے افریقی ممالک چھوٹی چیزوں پر توجہ دیتے ہیں جبکہ اس میں ملوث بڑی تنظیموں پر توجہ نہیں دی جاتی ہے۔

اس سے متعلق آئندہ ستمبر میں جنوبی افریقہ میں ایک اہم اجلاس ہونے والا ہے اور اسی کی مناسبت سے یہ رپورٹ تیار کی گئی ہے۔

اسی بارے میں