شامی شہر حلب سے باہر جانے والے ’واحد راستے پر فوج کا قبضہ‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حالیہ ہفتوں میں کاستیلو روڈ پر شدید ببمباری کی وجہ سے آمد ورفت انتہائی مشکل ہو چکی ہے

شام میں نگرانی کرنے والی تنظیم اور باغیوں کا کہنا ہے کہ حکومتی فورسز نے مؤثر انداز میں حلب میں باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں کی جانب جانے والے واحد راستے پر قبضہ کر کے اسے بند کر دیا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کی حامی افواج نے کاستیلو روڈ پر ایک کلومیٹر تک پیش قدمی کی ہے جس کے بعد ہدف ان کے ہلکے ہتھیاروں کی رینج میں آگیا ہے۔

باغیوں کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب کوئی بھی شہر کے مشرق سے نہ باہر جا سکتا ہے اور نہ ہی داخل ہو سکتا ہے۔ حلب شہر کے مشرقی علاقے میں تقریباً تین لاکھ افراد موجود ہیں۔

یہ حملہ حکومت کی جانب سے 72 گھنٹوں کی جنگ بندی کے اعلان کے بعد کیا گیا۔

کسی زمانے میں حلب شام کا کمرشل اور صنعتی گڑھ ہوا کرتا تھا جسے سنہ 2012 میں دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ مغربی حصے پر حکومت کا کنٹرول ہے جبکہ مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ حکومتی افواج اور باغیوں کے درمیان شمال مغربی حلب میں جھڑپیں نصف شب کے بعد شروع ہوئیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption تنظیم کے مطابق اب یہ اہم سڑک حکومتی فورسز کے ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں کے ہدف پر ہیں

تنظیم کا مزید کہنا ہے کہ وسیع پیمانے پر فضائی مدد سے حکومتی فورسز اور ان کی اتحادی ملیشیا کے جنگجو ال ملاح فارم کے علاقے میں داخل ہوئے اور ایک مسجد کی عمارت پر قبضہ کیا جہاں سے کاستیلو روڈ کی نگرانی کی جاسکتی ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ اس پیش قدمی کا مطلب یہ ہے کہ اب یہ اہم سڑک حکومتی فورسز کے ہلکے اور درمیانے ہتھیاروں کے ہدف پر ہیں۔

فستقیم باغی گروہ کے زکریا ملاحفجی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا ہے کہ ’اس وقت کوئی بھی حلب سے باہر یا اس میں داخل نہیں ہو سکتا ہے۔‘

انھوں نے مزید بتایا ہے کہ ’شدید فصائی اور زمینی بمباری کی وجہ سے حالیہ ہفتوں میں کاستیلو روڈ پر سفر کرنا انتہائی مشکل تھا، لیکن اب حکومتی فورسز کے لیے اس سڑک پر گاڑیوں کو نشانہ بنانا آسان ہو گیا ہے۔‘

’یہ سڑک خطرے سے خالی نہیں تھی لیکن اب اس پر خطرہ مسئلہ نہیں، اب یہ سڑک منقطع ہو گئی ہے۔‘

ایک اور باغی جنگجو نے روئٹر کو بتایا: ’تمام دھڑے مزید نفری بھیج رہے ہیں اور حکومت سے یہ مقام واپس حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن صورتحال بہت خراب ہے۔‘

اسی بارے میں