سپین میں کھیل کے دوران بل فائٹر کی ہلاکت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ مقابلہ ملک کے مشرقی قصبے ٹریول میں ہو رہا تھا جسے ٹی وی پر براہ راست نشر بھی کیا جا رہا تھا

سپین میں بل فائٹنگ کے ایک مقابلے کے دوران بیل کے حملے میں 29 سالہ فائٹر وکٹر باریو ہلاک ہو گئے ہیں۔

رنگ کے اندر فائٹر کی ہلاکت کا یہ رواں صدی میں پیش آنے والا پہلا واقعہ ہے۔

ان کی ہلاکت بیل کا سینگھ سینے میں لگنے سے ہوئی ہے۔

بل فائٹنگ کا یہ مقابلہ ملک کے مشرقی قصبے ٹریول میں ہو رہا تھا جسے ٹی وی پر براہ راست نشر بھی کیا جا رہا تھا۔

سنیچر کو ہی ویلنسیا کے قریب ایک بیل نے دوڑتے ہوئے ایک 28 سالہ لڑکے کو کچل دیا تھا جس کے نتیجے میں اس کی موت واقع ہو گئی تھی۔

اس سے قبل سپین میں ہلاک ہونے والے بل فائٹر کا نام جوش کیوبیرہ تھا جو سنہ 1985 میں بیل کے حملے میں ہلاک ہوئے تھے۔

ٹی وی پر حالیہ واقعے کی فوٹیجز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ بیل نے خود سے لڑنے والے باریو کو پہلے ہوا میں اچھالا اور پھر ان کے سینے پر وار کیا اور انھیں زور سے زمین پر پٹخا۔

وزیراعظم ماریانو راجوئے نے باریو کی ہلاکت کے بعد سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ صدی میں سپین میں بل فائٹنگ کے مقابلوں میں 33 فائٹر سمیت کل 134 افراد اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔

اس 500 سالہ قدیم روایت کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ انسان اور بیل کے درمیان خالص جنگ کا نمونہ ہے، اور اس میں جانور کو زخمی کرنے کے سخت اصول ہیں جن کے تحت اسے اطراف سے زخم نہیں لگایا جا سکتا، اور نہ متعدد افراد مل کر اس پر حملہ کر سکتے ہیں، بلکہ حملہ ایک ایک کر کے کیا جاتا ہے۔

لیکن حالیہ برسوں میں اس کھیل کو جانوروں کے حقوق کے کارکنوں کی جانب سے بھی تنقید کا سامنا ہے۔

ملک میں ہر سال 2000 کے قریب بیلوں کے مقابلے ہوتے ہیں تاہم اب ان کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔

سنہ 2013 میں منظور ہونے والے ملکی قانون میں ’ بُل فائٹنگ‘ کا دفاع کیا گیا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہ ہماری قومی ثقافت کا حصہ ہے اور ریاست کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اسے محفوظ کرے اور اس کی ترویج کرے۔

سپین میں معاشیات کے استاد جون میڈینا کے مطابق بُل فائٹنگ سے سنہ 2013 میں 20 کروڑ پاؤنڈ تک آمدن ہوئی۔

اسی بارے میں