ڈیلس میں خطرے کے پیش نظر سخت سکیورٹی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption پولیس اہلکاروں پر حملے میں ملوث تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے

امریکی ریاست ٹیکسس کے شہر ڈیلس میں پولیس نے ایک نامعلوم دھمکی آمیز کال موصول ہونے کے بعد اپنے ہیڈکوارٹر کی سکیورٹی کو مزید سخت کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ حکام کے مطابق پولیس کے ہاتھوں دو سیاہ فام افراد کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں پانچ پولیس اہلکار ہلاک اور چھ اہلکار زخمی ہوگئے تھے۔

پولیس اہلکاروں پر حملے میں ملوث تین مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جبکہ پولیس اہلکاروں کو قتل کرنے والے مبینہ حملہ آور جانسن کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

٭ سیاہ فام ہی کیوں پولیس کے نشانے پر؟

٭ احتجاجی ریلی میں فائرنگ، پانچ پولیس اہلکار ہلاک

٭ ٹیکساس فائرنگ: کب اور کیسے ہوئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ڈیوڈ براؤن نے بتایا کہ اس کا کہنا تھا کہ وہ کسی گروہ سے منسلک نہیں اور یہ کام وہ اپنے طور پر کر رہا تھا

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق پولیس ہیڈکوارٹر کے قریب فوجی گاڑیاں جا رہی تھیں اور قریب ہی مسلح افسران کھڑے تھے۔

اس سے قبل ڈیلس میں پولیس چیف نے کہا تھا کہ پولیس کی فائرنگ سے ہلاک ہونے والے مسلح شخص کا کہنا تھا کہ وہ پولیس کی جانب سے سیاہ فام لوگوں پر فائرنگ کے واقعات سے پریشان تھا اور سفید فام اہلکاروں کو مارنا چاہتا تھا۔

پولیس نے ان اطلاعات کی بھی تصدیق کی ہے کہ 25 سالہ جانسن امریکی فوج میں رہ چکا تھا۔

پولیس اہلکاروں کو ہلاک کرنے والے مبینہ شخص مکاہ جانسن کے مکان سے بم بنانے کا مواد، رائفلز اور جنگی جرنل برآمد ہوئے ہیں۔

سنیچر کو اپنے بیان میں پولیس کی جانب سے بتایا گیا کہ پولیس ڈیپارٹمنٹ کو ایک نامعلوم کال موصول ہوئی جس میں پورے شہر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو کے خلاف کارروائی کی دھمکی دی گئی تھی۔ جس کے بعد احتیاطًپیش نظر سکیورٹی بڑھائی گئی ہے۔

یاد رہے کہ بدھ کے روز امریکی ریاست مینیسوٹا میں سیاہ فام شخص فیلینڈو کاسٹل کو اُس وقت گولی مار کر ہلاک کیا گیا جب وہ گاڑی سے اپنا ڈرائیونگ لائسنس نکال رہے تھے جبکہ اس وقعے سے ایک روز قبل ایلٹن سٹرلنگ نامی ایک اور سیاہ فام شخص کو ریاست لوئزيانا میں پولیس نے گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

اسی بارے میں