اقوام متحدہ کی تنبیہ کے بعد جنوبی سوڈان میں تازہ جھڑپیں

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

جنوبی سوڈان میں صدر اور نائب صدر کی حامی فورسز کے درمیان تازہ جھڑپوں کا آغاز ہو گیا ہے۔

دارالحکومت جوبا سے ایک صحافی نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ شہر بھر سے گولیاں چلنے اور دھماکوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔ ان کے مطابق اس تازہ لڑائی میں بھاری اسلحہ استعمال کیا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق جمعے سے اب تک ان جھڑپوں میں دو سو سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔

یہ جھڑپیں ایک ایسے وقت میں شروع ہوئی ہیں جب اقوام متحدہ کی جانب سے چند گھنٹے قبل ہی خبردار کیا گیا تھا کہ لڑائی بند کی جائے اور تشدد کے پھیلاؤ کو روکا جائے۔

خیال رہے کہ اس سے قبل اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے جنوبی سوڈان میں جاری جنگ کی سختی سے مذمت کی گئی تھی۔

اتوار کو کونسل کے مشترکہ اجلاس کے بعد ایک اعلامیہ جاری کیا گیا تھا۔

کونسل نے جنوبی سوڈان میں اقوام متحدہ کے کمپلیکسز پر حملوں پر حیرت کا اظہار کیا اس کے علاوہ ملک کی سیاسی جماعتوں سے کہا گیا کہ وہ فوسرز کو کنٹرول کرے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ امن فوج کی تعداد میں بھی اضافہ کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے مشن نے کہا ہے کہ سینکڑوں افراد نے ان کے احاطے میں پناہ چاہی ہے جبکہ امن بحال کرنے والے ایک چینی اہلکار کی موت ہو گئی ہے جبکہ چین اور روانڈا کے کئی اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

جنوبی سوڈان میں باغی گروہوں کے مابین ہونے والی جھڑپوں کے بعد نائب صدر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان کا ملک ایک بار پھر سے حالتِ جنگ میں ہے۔

ادھر مقامی ریڈیو تماجوز نے کہا ہے کہ اس لڑائی میں 271 ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔

نائب صدر ریک ماچر کی حامی فورسز کا کہنا ہے کہ دارالحکومت جوبا میں حکومتی افواج نے ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔

نائب صدر ریک ماچر کے فوجی ترجمان کرنل ویلیم گیٹجیتھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ صدر سلوا کییر امن کے بارے میں سنجیدہ نہیں ہیں۔

تاہم وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے لڑائی کی خبریں بے بنیاد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ CCTV

کرنل ویلیم نے بی بی سی کو بتایا کہ اتوار کو حکومتی فوج کی جانب سے کی جانے والی کارروائی میں نائب صدر کے سینکڑوں حامی فوجی مارے گئے ہیں۔ جس کے بعد نائب صد کی وفادار فورسز نے مختلف سمتوں سے دارالحکومت جوبا کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے۔

ادھر اقوامِ متحدہ کے نمائندوں نے شہر کے علاقے جیبل میں واقع اپنے ہیڈکوارٹر کے قریب شدید جھڑپوں کی اطلاع دی ہے۔

اس سے قبل سیکریٹری جنرل بان کی مون نے اس بلاجواز تشدد کی شدید مذمت کی ہے۔

خیال رہے کہ پانچ سال قبل آزاد ہونے والے جنوبی سوڈان میں صدر اور نائب صدر کی حامی افواج میں ہونے والی اس تازہ لڑائی میں شدت پچھلے کچھ دنوں سے جاری جھڑپوں کے بعد دیکھنے میں آئی ہے۔

دنیا کی اس سب سے کم عمر ریاست نے سنیچر کو اپنا پانچواں یومِ آزادی منایا تھا۔

ان حالیہ جھڑپوں سے ایک بار پھر اندیشہ پیدا ہوگیا ہے کہ سنہ 2015 کا امن معاہدہ ناکام ہوتا دیکھائی دے رہا ہے جس کے باعث ملک میں عدم استحکام میں اضافے کا خطرہ ہے۔

اسی بارے میں