دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ علاقے میں کمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption شام میں روس کی مداخلت کے بعد سے دولتِ اسلامیہ پر حکومتی افواج کا دباؤ بڑا ہے

دفاعی امور کی ماہر تنظیم آئی ایچ ایس کے مطابق 2016 کے پہلے چھ ماہ میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے عراق اور شام میں زیرِ قبضہ رقبے میں 12 فیصد کمی ہوئی ہے۔

آئی ایچ ایس کی رپورٹ کے مطابق اس ہی نقصان کے ردِ عمل میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے عام شہریوں پر کیے جانے والے حملوں میں تیزی آئی ہے۔

حال ہی میں عراق کے دارالحکومت بغداد میں دولتِ اسلامیہ کی جانب سے کیے جانے والے خودکش بم حملے میں 300 شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

بغداد پر دولتِ اسلامیہ کی جانب سے حملے فلوجہ میں حکومتی افواج کے ہاتھوں شکست کے بعد کیے گئے ہیں۔

آئی ایچ ایس کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 سے لے کر اب تک دولتِ اسلامیہ کی نام نہاد خلافت کا رقبہ 90,800 مربع کلومیٹر سے کم ہوکر 68,300 مربع کلومیٹر رہ گیا ہے۔

جنوری 2015 سے دسمبر 2015 کے دوران دولتِ اسلامیہ کے زیرِ قبضہ رقبے میں 12,800 مربع کلومیٹر یعنی 14 فیصد کمی آئی۔

اس کے بعد سے اب تک دولتِ اسلامیہ کی نام نہاد خلافت مزید 9,700 مربع کلومیٹر سکڑ چکی ہے۔

خیال رہے کہ شام میں روس کی مداخلت کے بعد سے دولتِ اسلامیہ پر حکومتی افواج کا دباؤ بڑا ہے اور اس کے ساتھ کرد جنگجوؤں کی جانب سے بھی دولتِ اسلامیہ کو شدید مزاحمت کا سامنا رہا ہے۔

آئی ایچ ایس کی رپورٹ کے مطابق دولتِ اسلامیہ کو اس امر کا اندازہ ہوگیا ہے کہ اس کی خلافت ناکامی کی جانب گامزن ہے جس کے باعث اندیشہ ہے کہ آنے والے دنوں میں گروہ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ اور دیگر علاقوں میں دہشتگردانہ کارروائیوں میں اضافہ ہوگا۔

اسی بارے میں