فلسطینی حملوں کے بعد اسرائیل کا فیس بک پر مقدمہ

تصویر کے کاپی رائٹ ap
Image caption ٹیلر کو مارچ میں اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے چاقو کے وار سے قتل کیا گیا تھا

اسرائیل سے حقوقِ انسانی کے ایک گروپ نے فلسطینی حملوں کے ہلاک شدگان کے رشتہ داروں کی جانب سے فیس بک پر ایک ارب ڈالر کا مقدمہ درج کیا ہے۔

’شرعات ہدین‘ گروپ کا کہنا ہے کہ فیس بک نے امریکہ کے انسداد دہشت گردی کے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے حماس جیسے شدت پسند گروپوں کو تشدد پھیلانے کے لیے موقعہ دیا ہے۔

حماس نے مقدمے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ اسرائیل کی جانب سے فیس بک کو بلیک میل کرنے کی کوشش ہے۔

اس مقدمے میں 28 سالہ ٹیلر فورس سمیت تمام متاثرین امریکی ہیں۔ ٹیلر کو مارچ میں اسرائیل کا دورہ کرتے ہوئے چاقو کے وار سے قتل کیا گیا تھا۔

نیو یارک کی جنوبی ریاست میں قائم امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں درج کروائے گئے اس مقدمے کے مطابق ’فیس بک نے حماس کو مدد اور وسائل فراہم کیے ہیں جن سے یہ دہشت گرد گروہ اپنے رابطے برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ حملوں کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔‘

غزہ میں حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے کہا کہ کچھ اسرائیلی فوجی اور سیاستدانوں نے فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا ویب سائٹس پر ’فلسطینیوں کے قتل پر فخر کا اظہار‘ کیا ہے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر تشدد کرنے پر اکسانے کے بعد گذشتہ اکتوبر سے اسرائیلیوں پر کیے جانے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں اب تک 35 اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

اسرائیل فلسطین کے تنازعے پر گذشتہ ہفتے ’قوارٹٹ‘ نامی بین الاقوامی ثالثوں کے ایک گروپ کی جانب سے رپورٹ شائع ہوئی تھی جس کے مطابق فلسطینیوں کا ’سوشل میڈیا پر تشدد کرنے پر اکسانا‘ ایک اہم مسئلہ ہے۔

اسی بارے میں