صومالیہ میں فوجی اڈے پر حملہ، ’دس فوجی ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption گذشتہ ماہ کے اواخر میں دارالحکومت موغادیشو میں الشباب کی جانب سے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا تھا

صومالیہ میں فوجی حکام کے مطابق شدت پسند تنظیم الشباب کے جنگجوؤں نے دارالحکومت موغادیشو کے مغرب میں واقع ایک فوجی اڈے پر حملہ کر کے کم از کم دس فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

میجر احمد فراح نے قریبی قصبے افگوئے سے خبررساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ ایک اڈے پر خودکش کار بم دھماکہ کیا گیا جس کے بعد الشباب کے جنگجوؤں نے اس پر دھاوا بول دیا۔

یہ حملہ ماغادیشو سے 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع فوجی اڈے پر کیا گیا ہے۔

میجر احمد فراح نے کم از کم 12 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ بھی کیا ہے۔

اس سے قبل اتوار کو صومالیہ کے صدارتی دفتر کی جانب سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا تھا کہ حکومت نے موغادیشو کے جنوب میں شباب کے ایک اہم ٹھکانے کو تباہ کر دیا ہے۔

دوسری جانب الشباب کے ترجمان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

گذشتہ ماہ کے اواخر میں دارالحکومت موغادیشو میں الشباب کی جانب سے ایک ہوٹل کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم ازکم 14 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

گذشتہ ماہ کے رواں ماہ کے آغاز میں ایک اور ہوٹل میں کیے جانے والے حملے کے نتیجے میں 10 افراد ہلاک اور 50 زخمی ہو گئے تھے۔

القاعدہ سے منسلک تنظیم الشباب کو سنہ 2011 میں موغادیشو سے نکال دیا گیا تھا تاہم اب بھی وہ شہر کے لیے کئی حملوں کی صورت میں خطرہ بنی ہوئی ہے۔

صومالیہ کی حکومت افریقی اتحادی فوجوں کی مدد سے شدت پسندوں سے جنگ کر رہی ہے۔