شامی باغیوں کا حلب پر حملہ، آٹھ افراد ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

شامی حکومت کے باغیوں نے حکومتی افواج کی جانب سے شمالی شہر حلب کا واحد راستہ کاٹ دینے کے بعد حلب میں حکومت کے زیرِ علاقہ اضلاع پر حملہ کیا ہے۔

باغیوں کی جانب سے کیا جانے والا آپریشن بیک وقت متعدد محاذوں پر شروع کیا گیا جس میں مغربی علاقوں پر فائرنگ کی گئی۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس حملے میں آٹھ شہری ہلاک اور درجنوں زخمی ہو گئے۔

٭ شامی شہر حلب سے باہر جانے والے ’واحد راستے پر فوج کا قبضہ‘

٭ حلب میں کشیدگی، ’حکومتی جنگی طیاروں کی بمباری‘

خیال رہے کہ تازہ حملہ شامی باغیوں کی جانب سے کاستیلو روڈ کو دوبارہ کھولنے میں ناکامی کے بعد کیا گیا ہے۔

حلب کسی زمانے میں شام کا کمرشل اور صنعتی گڑھ ہوا کرتا تھا جسے سنہ 2012 میں دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ مغربی حصے پر حکومت کا کنٹرول ہے جب کہ مشرقی حصے پر باغیوں کا قبضہ ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے مخالفین نے حکومت کے زیرِ علاقہ اضلاع پر صبح حملہ کیا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ باغیوں نے حملے میں 300 سے زائد گولے داغے تاہم شامی حکومت کی فضائی کارروائی کی وجہ سے باغی کامیابی حاصل نہ کر سکے۔

مغربی حلب میں مقیم ایک شہری احمد نے خبر رساں اے ایف پی کو بتایا کہ شیلنگ نے اس کے پورے مکان کو تباہ کر دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لڑائی کی آوازیں ابھی بھی سنی جا سکتی ہیں۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کارکنوں کا کہنا ہے کہ شامی حکومت کے ایک فضائی حملے میں کم سے کم دس افراد ہلاک ہو گئے۔

ادھر سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ صوبے ادلب میں حکومت کے ایک فضائی حملے میں کم سے کم 14 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں