ڈیلس کے حملہ آور کو فوجی تجربے نے ’بدل دیا‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption فیس بک پوسٹ میں میکاہ جانسن کو سیاہ فام کے مخصوص سلام کرتے دیکھا جا سکتا ہے

امریکہ کے شہر ڈیلس میں پانچ پولیس اہلکاروں کی جان لینے والے بندوق بردار شخص کی والدہ کا کہنا ہے ’فوج میں اس کے تجربے نے اسے بدل کر رکھ دیا۔‘

حملہ آور میکاہ جانسن کی والدہ ڈیلفن جانسن نے دا بلیز کی ویب سائٹ کو بتایا کہ ’فوج میں جانے کے بعد جانسن جہاں بین اور ملنسار سے تنہائی پسند اور گوشہ نشین رہنے والا شخص بن گیا۔‘

٭ ’جانسن نے ایک بڑے حملے کا منصوبہ بنا رکھا تھا‘

٭ ’مسلح شخص کے مکان سے بم بنانے کا مواد برآمد‘

انھوں نے کہا: ’میکاہ نے فوج کے بارے میں جو تصور قائم کر رکھا تھا فوج ویسی نہیں تھی۔ وہ اس سے بہت مایوس تھا۔‘

خیال رہے کہ جانسن نے پولیس کے ہاتھوں افریقی نسل کے امریکیوں کے قتل کے خلاف ہونے والے احتجاج میں فائرنگ کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption امریکہ میں سیاہ فام نوجوانوں کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت پر تشویش پائي جاتی ہے

بہر حال جانسن کو پولیس نے جوابی کارروائی میں ہلاک کر دیا اور ان کے گھر سے بم بنانے کے سامان، رائفلیں اور جنگی جرنل ملے۔

ان کے والد جیمز جانسن نے ویب سائٹ سے کہا: ’میں نہیں جانتا کہ میں لوگوں سے کیا کہوں کہ حالات بہتر ہو جائیں۔ وہ ایسا کرے گا ہمیں یہ اندازہ نہیں تھا۔‘

انھوں نے کہا: ’میں اپنے بیٹے کو دل و جان سے چاہتا ہوں لیکن اس نے جو کیا مجھے اس سے نفرت ہے۔‘

ڈیلس کے پولیس سربراہ نے پولیس کارروائی میں جانسن کی موت کا دفاع کرتے ہوئے کہا: ’اگر ساتھی پولیس والوں کی جان بچانے کے لیے انھیں دوبارہ ایسا کرنا پڑا تو بھی وہ کریں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میکاہ کی والدہ نے بتایا کہ اس کا فوج کا تجربہ اچھا نہیں تھا

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ان کے خاندان کو موت کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ 13 افسروں نے جانسن کے خلاف طاقت کا استعمال کیا لیکن اسے ایک روبوٹ بم کے ذریعے ہلاک کیا گيا۔

براؤن نے یہ بھی کہا کہ جو سیاہ فام شہری غصے میں ہیں وہ پولیس میں بھرتی ہوں اور اس مسئلے کے حل کا حصہ بنیں۔

انھوں نے کہا: ’ہم پولیس کے لیے بھرتی کر رہے ہیں۔ مظاہروں کی قطار سے باہر نکلو اور فارم بھرو۔‘

Image caption ڈیلس کے پولیس سربراہ نے سیاہ فام شہریوں کو پولیس میں بھرتی ہونے کی دعوت دی ہے

امریکہ میں پولیس کے ہاتھوں سیاہ فام افراد کی ہلاکتوں کے بعد غم و غصہ ہے اور ملک کے کئی حصوں میں مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔

اسی بارے میں