دولت اسلامیہ نے شیشانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم سے منسلک ایک نیوز ایجنسی نے تنظیم کے اہم کمانڈر عمر شیشانی کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

عمق نامی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ عمر شیشانی عراق کے شہر موصل کے جنوبی قصبے شرکت میں ہلاک ہوئے۔

* دولت اسلامیہ کے کمانڈر شیشانی کی ہلاکت کی تصدیق

* ’شیشانی ہلاک نہیں زخمی ہوئے ہیں‘

واضح رہے کہ امریکی وزارت دفاع نے رواں برس مارچ میں عمر شیشانی کو شام کے شمال مشرقی علاقے میں ایک فضائی حملے میں ہلاک کرنے کی تصدیق کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

پینٹاگان کے مطابق عمر شیشانی کی ہلاکت امریکی فضائی حملے کے نتیجےمیں شدید زخمی ہونے کے بعد ہوئی تھی۔

امریکی وزارت دفاع کے مطابق امریکی فضائیہ کا یہ حملہ رواں برس چار مارچ کو شام کے شمال مشرقی علاقے شدادی میں اس وقت کیا گیا جب عمر شیشانی وہاں دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تربیت کے لیے موجود تھے۔

عمر شیشانی کا اصل نام ترکان باتراشویلی تھا تاہم وہ عمر دی چیچن کے نام سے مشہور تھے۔

عمر شیشانی کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ وہ دولت اسلامیہ کے سربراہ ابو بکر البغادی کے قریبی فوجی مشیر تھے۔

دولتِ اسلامیہ کے اہم کمانڈر کی ہلاکت کی تصدیق عمق نامی ویب سائٹ کے ذریعے سامنے آئی ہے جسے دولت اسلامیہ اپنی خبریں شائع کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔

عمق کا کہنا ہے کہ عمر شیشانی عراق کے شہر موصل میں لڑائی کے دوران ہلاک ہوئے۔

امریکہ نے گذشتہ سال شیشانی کے سر کی قیمت 50 لاکھ ڈالر مقرر کی تھی۔

اسی بارے میں