شام کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتے ہیں: ترک وزیر اعظم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption بن علی یلدرم کا کہنا تھا عراق اور شام میں استحکام انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اہم ہے

ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ ان کا ملک شام کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ترکی کو خطے میں سفارتی تعلقات بڑھانے کی ضرورت ہے۔

٭ مشرق وسطیٰ میں ترکی کی شطرنج

ٹی وی پر نشر ہونے والے اس خطاب کو ترک حکومت کی پالیسی میں نیا موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ خیال رہے کہ سنہ 2011 میں شام کے تنازعے کے آغاز ہی سے ترکی اور شام کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔

ترکی کا عرصہ دراز یہ کہنا ہے کہ علاقائی امن صرف اسی صورت میں بحال ہو سکتا ہے اگر شامی صدر بشار الاسد اقتدار سے الگ ہو جائیں۔

بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ عراق اور شام میں استحکام انسداد دہشت گردی کی کوششوں کو کامیاب بنانے کے لیے اہم ہے۔

استنبول میں بی بی سی کی نامہ نگار کیٹی واٹسن کا کہنا ہے کہ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے۔

حال ہی میں ترکی نے اسرائیل اور روس کے ساتھ کشیدگی میں کمی کرتے ہوئے تعلقات بحال کیے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa
Image caption حالیہ چند برسوں میں ترکی کرد باغیوں اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ دونوں کی جانب سے بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہے

بن علی یلدرم کا کہنا تھا کہ ’یہ ہمارا سب سے عظیم اور اٹل مقصد ہے: شام اور عراق اور بحیرۂ روم اور بحیرۂ اسود کے گرد واقع تمام ہمسایوں کے ساتھ اچھے تعلقات کا قیام ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے روس اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحال کیے۔ مجھے یقین ہے کہ ہم شام کے ساتھ بھی تعلقات بحال کریں گے۔‘

خیال رہے کہ مئی میں وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونے سے لے کر اب تک بن علی یلدرم متعدد مرتبہ یہ کہہ چکے ہیں کہ ترکی کو اپنے دوست بڑھانے اور دشمنوں کی کمی کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب استنبول میں فرانسیسی قونصلیٹ جنرل کا کہنا ہے کہ فرانسیسی سفارتی عملے نے 14 جولائی کو بسٹائل ڈے کی تقریبات ’سکیورٹی خدشات‘ کی بنا پر منسوخ کر دی ہیں۔

حالیہ چند برسوں میں ترکی کرد باغیوں اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ دونوں کی جانب سے بم دھماکوں کا نشانہ بنا ہے۔

اسی بارے میں