بورس جانسن عالمی سطح پر برطانیہ کا نیا چہرہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption بعض اوقات اپنے اخباری کالموں میں وہ اپنی ہی حکومت کے سرکاری مؤقف کے خلاف دکھائی دیتے ہیں

اگر کوئی ایسی صورتحال ہے کہ آپ کسی دو افتادہ جزیرے سے لوٹے ہیں یا پھر لمبی نیند سے بیدار ہوئے ہیں تو ٹریزا مے برطانیہ کی نئی وزیراعظم ہیں اور انھوں نے نیا سیکریٹری خارجہ تعینات کیا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر جو شخص برطانیہ کی نمائندگی کرے گا وہ بورس جانسن ہے۔

اس تعیناتی سے دنیا بھر کو کسی حد تک کچھ دھچکا تو ضرور لگا ہے لیکن اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ اس سے قبل دیگر ممالک اور اور وہاں کے رہنماؤں کے بارے میں کم ڈپلومیٹک رہے ہیں۔

بعض اوقات اپنے اخباری کالموں میں وہ اپنی ہی حکومت کے سرکاری مؤقف کے خلاف دکھائی دیتے ہیں۔

ٹونی بلیئر نے سنہ 2002 میں افریقہ کا دورہ کیا تھا۔ اس موقع پر بورس جانسن نے لکھا تھا کہ ’بلیئر کے لیے انگلینڈ سے باہر نکلنا کتنا پرسکون ہوگا۔‘

’وہ کہہ رہے ہیں کہ وہ جلد ہی کانگو جائیں گے۔ کوئی شک نہیں کہ اے کے 47 خاموش ہو جائیں گی، خنجر انسانی گوشت کاٹنا بند کر دیں گے، اور قبائلی جنگجو ایک بڑے سفید فام سربراہ کو بڑے سفید فام ٹیکس دہندہ پرندے کی شکل میں دیکھنے کے لیے تربوز کی طرح مسکرائیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption عالمی منظرنامے پر برطانیہ کی نمائندگی کرنے والا نیا چہرہ

بورس جانسن نے سنہ 2008 میں لندن کی میئر کی کامیاب انتخابی مہم کے دوران ان کلمات پر معذرت کر لی تھی۔

رواں سال مارچ میں امریکی صدر براک اوباما کی جانب سے اوول آفس سے ونسٹن چرچل کا مجسمہ ہٹائے جانے پر ان کا کہنا تھا کہ ’اس بارے میں کسی کو یقین نہیں ہے کہ اس فیصلے میں صدر خود شامل ہیں یا نہیں۔ کچھ کا کہنا تھا یہ برطانیہ کو روکنے کے لیے تھا۔ کچھ کا کہنا تھا یہ کینین نسل سے تعلق رکھنے والے صدر کی جانب سے برطانوی سلطنت کے خلاف ناپسندیدگی کا علامتی اظہار تھا، جس کا چرچل پھرپور دفاع کرتے رہے ہیں۔‘

اس کے بعد صدر اوباما نے اس تبصرے کے حوالے سے بورس جانسن سے بات چیت کی تھی۔

رواں سال کے آغاز میں ترکی نے ایک جرمن مزاحیہ فنکار پر مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا تھا جس نے ترک صدر رجب طیب اردوغان پر ایک فحش نظم لکھی تھی۔

اس کے جواب میں برطانوی میگزین دی سپیکٹیٹر نے ایک مقابلے کا اعلان کیا جس میں قارئین سے صدر اردوغان کے بارے میں نظمیں بھیجنے کا کہا گیا۔ اس مقابلے کے فاتح بورس جانسن تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ میں ’غیرحاضر دماغ‘ ہونے کا بھی الزام عائد کیا تھا

شامی صدر بشار الاسد کی حامی فوجوں نے جب روسی افواج کی مدد سے قدیم شہر پیلمائرہ کو دولت اسلامیہ کے قبضے چھڑایا تو وہ تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے۔

انھوں نے لکھا کہ ’کوئی بھی باشعور شخص اس امر پر اطمینان محسوس کر سکتا ہے جو کچھ اسد کے فوجیوں نے حاصل کیا‘ تاہم وہ اس بات پر قائم رہے کہ بشار الاسد ایک ’شیطان‘ اور ’آمر‘ ہیں۔

گذشتہ دسمبر میں اپنے ایک کالم میں انھوں نے روسی صدر ولادی میر پوتن کا ہیری پوٹر کے ایک کردار ڈوبی دی ہاؤس ایلف کے ساتھ موازنہ کیا تھا۔

بورس جانسن اس عہدے پر فائز ہونے کے بعد اپنے آبائی وطن امریکہ کے حکام کے ساتھ بھی ملاقات کریں اور ان کا سامنا نئے امریکی صدر سے بھی ہوگا۔ لیکن صرف ایک مسئلہ ہے اور اس کا انحصار اس پر ہے کہ نیا صدر کون بنتا ہے۔

سنہ 2007 میں انھوں نے ہلیری کلنٹن کے بارے میں کہا تھا کہ ’ان کے ڈائی کیے ہوئے سنہرے بال اور پاؤٹی ہونٹ ہیں، اور فولادی نیلی نظر، جیسے وہ مینٹل ہسپتال میں رنجیدہ نرس ہیں۔‘

مارچ میں بورس جانسن کا ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہنا تھا کہ ’میں حقیقی طور پر پریشان ہوں کہ یہ امریکہ کے صدر بن سکتے ہیں۔‘

Image caption بورس جانسن کی نظم میں بکری کا ذکر تھا، بس اتنا ہی کہہ رہے ہیں

’میں نیویارک میں تھا اور کچھ فوٹوگرافرز میری اور راہ داری پر میری جانب آنے والی ایک لڑکی کی تصویر بنانے کی کوشش کر رہے تھے کہ اس نے کہا ’جی، کیا یہ ٹرمپ ہے؟‘

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بدترین لمحات میں سے ایک تھا۔‘

انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ میں ’غیرحاضر دماغ‘ ہونے کا بھی الزام عائد کیا تھا۔

سنہ 2006 میں انھوں نے اپنے ایک کالم میں لکھا تھا کہ وہ ایران کے جوہری بم کی حمایت کرتے ہیں اور ان کا کہنا تھا کہ ’اس کا مطلب صرف میرے ملک کی حفاظت ہوگا، اور میرے ڈر سے دبکے ہوئے عوامی نمائندو۔۔ امریکی کی جانب سے ممکنہ حملے سے۔‘

اگرچہ وہ تسلیم کرتے ہیں اس وقت امریکہ دو جنگیں لڑ رہا تھا، ایسا کہنا بے جا نہیں ہوگا کہ بورس جانسن کا یہ بیان خلاف دستور تھا۔

اسی بارے میں