’بورس جانسن نے برطانوی عوام سے بہت جھوٹ بولا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ انھیں مذاکراتی پارٹنر کی ضرورت ہے جو قابل بھروسہ اور معتبر ہو

فرانس کے وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کے نئے وزیر خارجہ بورس جانسن ایک ’جھوٹے‘ شخص ہیں اور انھیں سخت مشکل حالات کا سامنا ہے۔

یورپ ریڈیو ون کے ساتھ بات کرتے ہوئے ژاں مارک ایرولٹ کا کہنا تھا کہ بورس جانسن نے حالیہ یورپی یونین ریفرینڈم میں برطانوی عوام کے ساتھ جھوٹ بولا اور اب وہ اپنے ملک کا دفاع کرنے میں ’دباؤ‘ کا شکار ہو سکتے ہیں۔

٭ بورس جانسن عالمی سطح پر برطانیہ کا نیا چہرہ

٭ ’یورپی یونین سے مذاکرات کے لیے مزید وقت چاہیے‘

ان کا کہنا تھا کہ فرانس کو ایک ایسے مذاکراتی پارٹنر کی ضرورت تھی جو قابل بھروسہ اور معتبر ہو۔

خیال رہے کہ ماضی میں لندن کے میئر رہنے والے بورس جانسن نے برطانیہ کے یورپی یونین کے حصہ رہنے یا الگ ہونے کے حوالے سے منعقدہ ریفرینڈم میں اس کے اخراج کی مہم کی قیادت کی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption حالیہ ریفرینڈم میں بورس جانسن نے یورپی یونین سے الگ ہوجانے کی مہم کی قیادت کی تھی

قیاس تھا کہ وہ ریفرینڈم کے نتائج کے بعد کنزرویٹو پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے لیے مقابلہ کریں گے تاہم انھوں نے اہم ساتھیوں کی جانب سے حمایت حاصل نہ ہونے کی بنا پر دستبرداری اختیار کر لی۔

بورس جانسن کی بطور وزیر خارجہ تعیناتی دنیا بھر میں بہت سارے سیاستدانوں اور تجزیہ کاروں کے لیے حیرانی کا باعث ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ’مجھے بورس جانسن کے بارے میں تشویش نہیں لیکن آپ ان کی مہم میں اس انداز کے بارے میں جانتے ہیں، انھوں نے برطانوی لوگوں سے بہت جھوٹ بولا۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اپنے ملک کے دفاع کے لیے ان کے پاس زیادہ کچھ کرنے کو نہیں اور یورپ کے ساتھ تعلقات میں بھی ان کی پشت دیوار سے لگی ہے۔‘

Image caption ٹریزا مے کا کہنا ہے کہ یورپی یونین سے انخلا کے حوالے سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے برطانیہ کو مزید وقت چاہیے

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ برطانویوں کے اپنے مفادات میں اس مبہم اور غیر واضح صورتحال کو جاری نہیں رہنے دیا جا سکتا۔

اس مبہم صورتحال میں کمی کے لیے فرانس اور یورپی یونین کے ممالک برطانیہ سے فوری طور پر یورپی یونین چھوڑنے کا عمل شروع کرنے کی درخواست کر چکے ہیں۔

برطانیہ کی نئی وزیراعظم ٹریزا مے نے اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد کابینہ میں چھ نئے وزرا شامل کیے ہیں اور کہا ہے کہ یورپی یونین سے بات چیت کے لیے برطانیہ کو مزید وقت درکار ہے۔

وزیراعظم بننے کے بعد ٹریزا مے نے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل اور فرانس کے صدر فرانسوا اولاند سے ٹیلی فون پر بات کی تھی۔

اس بات چیت میں انھوں نے کہا کہ یورپی یونین سے انخلا کے حوالے سے مذاکرات شروع کرنے کے لیے برطانیہ کو مزید وقت چاہیے۔

اسی بارے میں