جنوبی فرانس میں ٹرک نے ہجوم کو کچل دیا، درجنوں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

فرانس کے جنوبی شہر نیس میں قومی دن پر جشن کے دوران ایک تیز رفتار ٹرک سے ہجوم کو کچلے جانے کے واقعے میں بچوں سمیت 84 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے ہیں۔

صدر فرانسوا اولاند نے اس واقعے کو ’دہشت گرد حملہ‘ قرار دیا ہے۔ وہ وزیرِاعظم کے ہمراہ نیس کا دورہ بھی کر رہے ہیں۔

٭ فرانس ایک مرتبہ پھر نشانہ: لائیو اپ ڈیٹس

٭ نیس میں ٹرک سے ہجوم پر حملہ: تصاویر

حکام کے مطابق یہ واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ہزاروں افراد قومی دن کی تقریبات کے سلسلے میں لوگ آتش بازی کا مظاہرہ دیکھ رہے تھے۔

فرانسیسی وزیر داخلہ کا کہنا ہے کہ ٹرک تلے کچل کر 50 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے 18 کی حالت تشویش ناک ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے فرانسیسی پراسیکیوٹر ژاں مشل پریتر کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈرائیور ٹرک کو ہجوم کے اندر دو کلومیٹر تک چلاتا ہوا لے گیا اوراس نے بڑی تعداد میں لوگوں کو روندا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ ٹرک کے ڈرائیور کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے جبکہ ٹرک میں سے بندوقیں اور دستی بم ملے ہیں۔

فرانسیسی ذرائع ابلاغ کے مطابق ٹرک ڈرائیور تیونسی نژاد فرانسیسی تھا اور ممکنہ طور وہ نیس کا ہی رہائشی تھا۔

ابھی تک کسی گروہ نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

اس واقعے کے بعد صدر فرانسوا اولاند نے ملک میں نافذ ہنگامی حالت میں مزید تین ماہ کی توسیع کر دی ہے جس کے بعد فرانس میں سکیورٹی کے لیے پولیس کے ساتھ فوج بھی تعینات رہے گی۔

فرانس میں ہنگامی حالت گذشتہ نومبر میں پیرس میں دہشت گردی کے واقعات کے بعد سے نافذ ہے اور یہ 26 جولائی کو ختم ہونا تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

نیس میں دہشت گردی کے اس واقعے کے فوراً بعد دارالحکومت پیرس میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس کے بعد پریس کانفرنس میں صدر اولاند نے کہا کہ ’فرانس کو بری طری نشانہ بنایا گیا ہے اور ہمیں اس طرح کے حملے روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنا ہوں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پورے فرانس کو اسلامی شدت پسندوں سے خطرہ ہے۔‘ اپنے خطاب میں انھوں نے یہ بھی بتایا کہ مرنے والوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔

نیس کے میئر اور پولیس نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی ایک تصویر میں تقریباً ایک درجن افراد کو سٹرک پر لیٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ ایک اور تصویر میں سفید ٹرک بھی نمایاں ہے جس کی سکرین پر گولیوں کے نشانات ہیں۔

نیس میں ماٹن نامی اخبار سے تعلق رکھنے والے صحافی کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر ’بہت زیادہ خون اور متعدد افراد زخمی تھے۔‘

ایک عینی شاید نے فرانس کے بی ایف ایم ٹی وی کو بتایا ’ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ بھاگو بھاگو، یہاں حملہ ہو گیا ہے، بھاگو بھاگو۔‘

عینی شاید کے مطابق ہم نے کچھ دھماکے سنے تاہم ہمارا خیال تھا کہ فرانس کے قومی دن کے حوالے سے کی جانے والی آتش بازی کی وجہ سے ہے۔

ایک اور عینی شاید رائے کیلے نے بی بی سی کو بتایا ’جس وقت یہ حادثہ پیش آیا تو وہاں ہزاروں افراد جمع تھے۔‘

اس واقعے پر جمعے کو فرانس بھر میں قومی پرچم سرنگوں رہے گا جبکہ نیس میں ہونے والا جاز فیسٹیول بھی منسوخ کر دیا گیا ہے۔

اسی بارے میں