ایران کے ’فحش‘ کپڑے اور ’دانا‘ ٹی وی

کیپ کام سیریز تصویر کے کاپی رائٹ FARS
Image caption ایران کے سرکاری میڈیا اس طرح کی عبارتوں کو مزاحیہ نہیں سمجھتا

آج کل ایران میں وہ کپڑے پہننے کا بہت رواج ہے جن پر انگریزی تحریریں لکھی ہوتی ہیں۔

ایران کے سرکاری میڈیا میں اس کی وجہ سے ایک طرح کا بھونچال آیا ہوا ہے۔

ایران کے سرکاری ٹی وی ’چینل ٹو‘ کی ایک رپورٹ میں مردوں اور عورتوں کی ٹی شرٹس اور ٹاپس پر ’فحش‘، ’شیطانی‘ اور ’مذہب مخالف‘ عبارتیں لکھنے کے فیشن کی نشاندہی کی گئی ہے۔

اس رپورٹ میں دکھایا گیا ہے کہ لوگ ایسے کپڑے پہنتے ہیں جن پر ’پیار‘، ’نارمل نہیں‘ اور ’کوئی قوانین نہیں‘ جیسے الفاظ چھپے ہوئے ہیں۔

ایک شاٹ میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص نے ایک ایسا ٹاپ پہنا ہے جس پر ’فرائیڈے نائٹ‘ لکھا ہے۔ اس شخص کا چہرہ نہیں دکھایا گیا۔

کچھ خاص تشویش عورتوں کے ان کپڑوں کے بارے میں بھی ہے جن پر مزاحیہ تحریریں جیسا کہ ’کیپ کام آئی ایم کوین‘ (سکون سے رہیں میں ملکہ ہوں)۔

یقیناً یہ برطانیہ کی مشہور ’کیپ کام اینڈ کیری اون‘ سیریز سے متاثر ہو کر لکھی گئی ہے لیکن ٹی وی چینل کچھ اور ہی سمجھتا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ کوین یعنی ملکہ ایک امریکی عامیانہ اصطلاح ہے جو ان مردوں کے متعلق استعمال کی جاتی ہے جو عورتوں کی طرح لگتے ہیں۔

میڈیا کی اس دلچسپی پر کپڑے فروخت کرنے والے پریشان ہیں۔ ایک دکاندار نے ٹی وی رپورٹر کو بتایا کہ اس طرح کی چیزوں کی بہت مانگ ہے، لیکن ساتھ ہی اس نے انھیں درآمد کرنے والے ’مافیا‘ پر بھی اس طرح کی چیزوں کی دستیابی کا الزام لگایا۔

فارس نیوز ایجنسی کی طرف سے بنائی گئی اس طرح کی ایک اور رپورٹ میں دوسرے دکانداروں نے، جنھیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کی ویڈیو بنائی جا رہی ہے، شکایت کی کہ ’قدامت پسند‘ اتنی چھوٹی سی بات کا بتنگڑ بنا رہے ہیں۔

عوام کی رائے ملی جلی ہے۔ فارس کی ویب سائٹ پر شائع کیے جانے والے ایک بیان میں حجاب کی ضرورت پر قرآن کا حوالہ دیا گیا ہے جبکہ ایک اور میں کہا گیا ہے کہ ’اگر قدامت پسندوں کے ہاتھ میں ہو تو ہم سب کالے کپڑے ہی پہنا کریں گے۔‘

اسی بارے میں