’امریکی عوام اور پولیس کے درمیان فاصلے کم کیے جائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صدر اوباما واشنگٹن میں سرگرم کارکنوں، سیاستدانوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے خطاب کر رہے تھے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے امریکہ اس صورتحال کے قریب بھی نہیں ہے جہاں اسے پولیس اور عوام کے درمیان تقسیم کم کرنے کے لیے پل بننے کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے سیاہ فاموں اور ہسپانوی لوگوں میں اعتماد کی فضا قائم کرنی چاہیے اور پولیس کی جانب سے تشدد کی مکمل تحقیقات ہونا چاہیے۔

صدر اوباما واشنگٹن میں سرگرم کارکنوں، سیاستدانوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے خطاب کر رہے تھے۔

*ہم اتنے منقسم نہیں جتنے بظاہر نظر آ رہے ہیں: اوباما حال ہی میں لیوزیانا اور منیسوٹا میں پولیس اہلکاروں کی جانب سے سیاہ فام افراد کو گولی مار کر ہلاک کیا گیا تھا۔

جس کے بعد گذشتہ ہفتے مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور ایک سیاہ فام سابق فوجی نے اس کا بدلہ لیتے ہوئے ڈیلس میں پانچ پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

صدر اوباما کا کہنا تھا: ’ہمیں مل کر مزید کام کرنا ہوگا کہ ہمیں پولیس افسران کی جانب سے طاقت کے استعمال اور خاص طور پر مہلک طاقت کے استعمال کے بعد اعتماد کیسے بحال کیا جائے، تحقیقات کیسے کی جائیں اور انصاف کی فراہمی پر اعتماد ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption منگل کو ڈیلس میں ہلاک ہونے والے پانچ پولیس اہلکاروں کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب منعقد کے گئی تھی

ان کا کہنا تھا کہ ایسے اصول و ضوابط کا قیام عمل میں لانا چاہیے جن سے تحقیقات کو مؤثر اور منصفانہ یقینی طور پر بنایا جا سکے۔

انھوں نے منگل کو ڈیلس میں ہلاک ہونے والے پانچ پولیس اہلکاروں کی یاد میں منعقدہ تعزیتی تقریب میں شرکت کی تھی اور لوزیانا اور منسوٹا میں ہلاک ہونے والے سیاہ فام افراد ے خاندانوں سے بھی بات چیت کی تھی۔

امریکہ میں تشدد کی لہر جاری ہے جبکہ صدر اوباما کو پولیس کو خاطر خواہ تعاون نہ دینے کے لیے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہرے اور تنقید کے سبب وہ خود کو حملے کی زد میں محسوس کرتے ہیں۔

اسی بارے میں