’قابل لوگ لندن چھوڑ کر نہ جائیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption بہت ضروری ہے کہ جب یورپی یونین سے بات چیت کی جائے تو لندن بھی ان مذاکرات میں شامل ہو

‎ لندن کے میئر صادق خان نے وہاں رہنے والے غیر ملکیوں کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ لندن چھوڑ کر مت جائیں۔

بی بی سی اردو کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں لندن کے میئر صادق خان کا کہنا تھا کہ لندن ایک کثیر النسلی شہر ہے۔ یہاں مسلمان، عیسا ئی، یہودی، سکھ اور ہندو سب ہیں۔

٭ سرکاری فلیٹوں کا بچہ میئر بن گیا

انھوں نے کہا کہ یہ ایک متحد شہر ہے مگر بدقسمتی سے ریفرینڈم کے بعد اعداد و شمار اور لوگوں سے بات کرنے سے پتہ چلا ہے کہ نسل پرستی پر مبنی نفرت اور نسلی جرائم میں اضافہ ہوا ہے۔

صادق خان نے کہا کہ ’میں نے پولیس کمشنر سے بات کی ہے اور ہم ایسے جرائم کو برداشت نہیں کریں گے۔ اگر کسی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آ ئے تو انھیں فوراً رپورٹ کرنا چاہیے اور جو بھی ملوث ہوا انھیں سزا ملے گی۔‘

برطانیہ کے یورپ سے نکلنے کے فیصلے کے بعد ملک میں سیاسی عدم استحکام کی فضا پیدا ہوگئی ہے اس سے لندن کے کاروبار پر بھی تو اثر پڑے گا؟

اس سوال کے جواب میں صادق خان کا کہنا تھا کہ ’لندن پھر بھی ایک عظیم شہر رہے گا اور ہم پھر بھی سب کو خوش آمدید کہیں گے۔‘

’میں قابل لوگوں کو کہوں گا کہ چھوڑ کر نہیں جائیں۔‘

انھوں نے برطانوی پرائم منسٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بہت ضروری ہے کہ جب وہ یورپی یونین سے بات چیت کریں تو لندن بھی ان مذاکرات میں شامل ہو۔

کسی بھی بڑے مغربی شہر کے پہلے مسلمان میئر بننے کے بعد بعض لوگوں کے خیال میں صادق خان لیبر پارٹی کے لیڈر بھی بن سکتے ہیں۔ اس پر صادق خان نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا کہ انھیں ’بطور میئر کام کرنا اچھا لگ رہا ہے اور فی الحال ان کے لیے یہی بہتر ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

صادق خان کا پسندیدہ جملہ ہے: ’مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم دا میئر آف لندن۔‘

تو کیا مستقبل میں ہمیں یہ بھی سننے کو مل سکتا ہے کہ مائی نیم از خان اینڈ آئی ایم دا پرائم منسٹر آف یو کے؟

اس کے جواب میں صادق خان پہلے تو خوب ہنسے اور پھر کہا کہ ’آپ کے تعریفی کلمات کا شکریہ لیکن اس سوال کا جواب ہے اسلام علیکم۔‘

جب یہی سوال ان سے دوسرے انداز میں پوچھا گیا کہ کیا ایک مسلمان مستقبل میں برطانیہ کا پرائم منسٹر بن سکتا ہے؟ تو صادق خان کا کہنا تھا ’یقیناً بن سکتا ہے لیکن میں اس وقت لندن کا میئر ہوں اور یہ جاب جاری رکھنا چاہوں گا۔‘

انڈین نژاد میئر کو نائب چننے کے فیصلے پر صادق خان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ لندن میں مذہب اور رنگ و نسل سے بالا تر ہو کر ٹیلنٹ کو فروغ دیا جائے۔

صادق خان کا کہنا تھا کہ ’میرے ڈپٹی میئر راجیش انڈیا سے ہیں، وہ جب اس ملک میں آئے تو ان کے پاس جیب میں صرف دو سو پاؤنڈز تھے اور آج وہ کروڑ پتی ہیں، کیوں؟ کیونکہ لندن میں آپ محنت کر کے اپنی زندگی بدل سکتے ہیں، راجیش کی طرح کا ٹیلنٹ ہمیں لندن میں چاہیے، اور دیکھیں لوگ یہ بھی دیکھ سکتے ہیں کہ انڈین اور پاکستانی نژاد بہترین دوست بن سکتے ہیں۔‘

‎لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربن کو مستعفی ہو جانا چاہیے یا نہیں؟ اس پر صادق خان نے مسکراتے ہوئے کہا: ’اسلام علیکم اور عید مبارک۔‘

اسی بارے میں